میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 160
148 امتی نبی ہونے کا ہے اس لئے امت کے بزرگوں کی کتب بھی پیش ہونی چاہیئں اور نبیوں کی بھی۔بہر حال اب یہ بحث ختم کرد۔اتنے میں لال حسین نے اس شخص کو بلایا جس نے امن رکھنے کا ذمہ لیا ہوا تھا۔اس کو کان میں کچھ سمجھایا اور وہ کہنے لگا کہ مجمع بہت بڑا ہو گیا ہے اس لئے اب میں اپنی ذمہ داری چھوڑتا ہوں۔میں نے کھڑے ہو کر اعلان کر دیا کہ پلک مناظرہ سننے کو آئی ہے لڑائی کرنے کو نہیں آئی اور چونکہ یہ مناظرہ تحصیل میں ہو رہا ہے اس لئے لڑائی کا کوئی امکان نہیں۔میں احمدیوں کی طرف سے امن کی ذمہ داری لیتا ہوں اور لال حسین کو غیر احمدیوں کی طرف سے لینی چاہئے۔اس طرح یہ مناظرہ سکون سے ہو سکتا ہے۔دوست اپنا قیمتی وقت ضائع کر کے اکٹھے ہوئے ہیں۔ہم ضرور انہیں اپنے اپنے دلائل سنا دینا چاہتے ہیں۔لیکن لوگوں نے شرائط طے کرتے وقت ہی کافی بحث سن لی تھی اور پھر لال حسین نے امن کا ذمہ بھی نہ لیا جس پر تھانیدار صاحب نے کہہ دیا کہ سب لوگ چلے جائیں۔کوئی بحث مزید نہیں ہوگی۔لال حسین کہنے لگا کہ پہلے قادیانیوں کو نکالو ہم بعد میں جائیں گے۔میں نے کہا جو پہلے آئے تھے وہی پہلے جائیں گے اور بعد میں آنے والے بعد میں جائیں گے اور ساتھ ہی احمدیوں کو بیٹھے رہنے کی تلقین بھی کر دی۔لال حسین کو تھانے والوں نے وہاں سے نکال کر ایک میل دور چھوڑ دیا ہم آپس میں باتیں کرتے رہے۔اسی اثناء میں ہندو پوچھنے لگے کہ ان کے وقتوں میں انہیں فتوے دیتا رہا ہے اور اب مرزا صاحب پر خود ساختہ اعتراض کرتے ہیں۔پھر ہم بھی بتا دیتے ہیں کہ پہلے بزرگوں کو بھی نہ مان کر اس قسم کے اعتراض کرتے رہے ہیں۔اس پر پھر انہیں شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔اگر یہ کہیں کہ وہ بزرگ نہیں تھے تو لوگ ناراض ہو جاتے ہیں اور اگر وہی اعتراض اس جگہ کریں تو مرزا صاحب صادق ہو جاتے ہیں۔اس لئے یہ انہیں ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں۔پھر لال حسین