میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 159
147 مناظرہ لکھاؤ۔وہ لکھاتے گئے۔کتب حضرت مسیح موعود کے ساتھ میں نے کہا کہ كتب سلف صالحین بھی رکھ لیں۔اس نے اس بات سے انکار کر دیا جس پر بحث شروع ہو گئی۔وہ کہنے لگا کہ مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس لئے استدلال صرف قرآن و احادیث اور کتب مرزا صاحب سے ہو گا۔میں نے جواب دیا کہ مرزا صاحب کا کلام صرف احمدیوں پر حجت ہے اور قرآن کریم و حدیث فریقین پر حجت ہے اس لئے صرف قرآن کریم اور حدیث سے ہی فیصلہ ہونا چاہئے۔کہنے لگا مرزا صاحب کی کتب پر ہی بحث ہوگی اور کسی دوسری کتاب کی ضرورت نہیں میں نے کہا اگر قرآن و حدیث آپ کی مدد نہیں کرتے تو پھر مرزا صاحب کی کتب ہی رکھ لو۔ہمیں منظور ہے مگر آپ یہ لکھ دیں کہ میرے لئے بھی مرزا صاحب کی کتب حجت ں۔اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا غرضیکہ دونوں دفعہ صدر صاحب کا فیصلہ میرے حق میں ہوا۔پھر لال حسین نے کہا کہ مرزا صاحب نبی تھے تو انکا فیصلہ قرآن پاک، حدیث اور کتب مرزا صاحب سے ہونے سے آپ گھبراتے کیوں ہیں۔میں نے کہا کہ میں خدا کے فضل سے گھبرانے والا نہیں ہوں مگر آپ کو تفصیلات بتا دیتا ہوں کہ مرزا صاحب کا دعوی امتی نبی ہونے کا ہے اس لئے امت کے بزرگوں کی کتب بھی پیش ہوں گی اور نبیوں کی کتب بھی پیش ہوں گی۔آپ اولیاء اللہ کی کتب سے نفرت کیوں کرتے ہیں۔اس طرح کرنے سے میدان وسیع ہو جائے گا آپ جس طرح چاہیں بیان کریں اور تردید کریں۔میں بھی سب کتابوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صداقت بیان کروں گا۔صدر ڈاکٹر گوری شنکر صاحب نے آخری فیصلہ یہ دیا که قادیانی مولوی صاحب سچ کہتے ہیں کہ بزرگوں کی جو بھی کتاب دونوں فریق چاہیں پیش کر سکتے ہیں۔اس میں روک نہیں ہونی چاہئے۔جیسا کہ قادیانی مولوی صاحب نے کہا ہے کہ مرزا صاحب کا دعوئی براہ راست نبی یا شرعی نبی ہونے کا نہیں بلکہ