میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 155 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 155

143 اور کیڑا ہوتا ہے جسے وہ انڈو کہتے ہیں۔وہ چھہ ماشہ کے قریب خون چوس لیتا ہے اور ذرا پتہ نہیں چلتا کہ وہ کب چمٹا ہے۔جب اس کا پیٹ خوب بھر جاتا ہے تو پھر وہ خود بخود گر جاتا ہے۔بعد میں کاٹنے والی جگہ پر خوب کھجلی ہوتی ہے۔زخم بھی کافی دنوں تک قائم رہتا ہے۔یہ بلائیں رات بھر سونے نہیں دیتیں۔خاص طور پر اجبنی کو تو ساری رات کھجلاتے ہی گزر جاتی ہے۔رات دن جاگنے کی وجہ سے بیمار ہو کر واپس پونچھ پہنچ گیا۔واپس پہنچ کر حضرت صاحب کی خدمت میں اس تکلیف کو بیان کیا اور ساتھ ہی چھٹی کی درخواست کر دی۔حضور نے جواباً تحریر فرمایا کہ آپ سات روپیہ ماہوار تک ایک آدمی اپنے ساتھ رکھ لیں جو راستہ میں آپ کا سامان اٹھا سکے اور کھانا پکانے کا کام دے سکے۔سردست تین ماہ کے لئے میری طرف سے رکھ لیں۔میں نے ایک نوجوان دوست محمد خان ابن حسین خان نمبردار کو اپنے ساتھ رکھ i لیا اور دوبارہ دورہ پر روانہ ہو گیا۔دورہ کے دوران جب میں "ٹائیں" پہنچا تو معلوم ہوا کہ مولوی لال حسین اختر عبدالرحمن صاحب احمدی کو غیر احمدیوں نے اپنے جلسہ میں منکوٹ بلوایا ہوا ہے تاکہ ان کی باتوں کا جواب دیں۔مولوی صاحب موصوف بہت کم گو آدمی تھے۔وہ بے چارے ان کی باتوں کا جواب نہ دے سکے اور یہ کہہ کر واپس آگئے کہ آپ ہمیں مناظرہ کا تحریری چیلنج دیں۔ہم پونچھ میں اپنے مبلغ سے مشورہ کرکے تاریخ کا تعین کریں گے اور آپ کو بھی اطلاع دے دیں گے۔مگران لوگوں نے آپ کو پکڑ لیا کہ ابھی ہمارے سوالوں کا جواب دے کر جاؤ یا پھر مسلمان ہو جاؤ اور وہیں انہیں مجبور کر کے مناظرہ کی شرائط اپنی مرضی سے منوا کر دستخط کروا لئے۔وہ میرے پاس ”ٹائیں" پہنچے اور مناظرہ کی شرائط دکھانے لگے جو بالکل فضول تھیں اور اس کے نیچے لال حسین اختر کے دستخط تھے۔میں اسی وقت انہیں ہمراہ