میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 156
144 لے کر ان کے جلسہ میں پہنچا۔محمد افضل نمبردار ان کے جلسے کا صدر تھا اور لال حسین اکثر احمدیت کے خلاف خوب زہر اگل رہا تھا مگر سامعین سب مجھے دیکھ رہے تھے کہ دیکھتے ہیں اب کیا ہوتا ہے۔میں نے صدر صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مناظرہ کی شرائط کس نے لکھی ہیں۔لال حسین بولا کہ میں نے اور مولوی ་ عبدالرحمن صاحب نے طے کی ہیں۔میں نے کہا یہ صحیح نہیں ہیں آپ تو مناظر تھے۔مگر مقابلہ پر مناظر نہیں تھا اس لئے آؤ میرے ساتھ شرائط طے کرو۔کہنے لگا جو شرائط طے ہو چکی ہیں وہی رہیں گی۔میں نے کہا چاہے اصول کے خلاف ہوں تب بھی وہی رہیں گی؟ اس نے جھٹ کہہ دیا کہ یہ اصول کے خلاف نہیں ہیں۔میں نے کہا آپ نے اپنے آپ کو تردید مرزائیت کا مدعی لکھا ہے۔حالانکہ دعوئی پہلے ہوتا ہے اور تردید بعد میں ہوتی ہے مگر آپ کا اصول بھی نرالا ہی دیکھا ہے۔صدر صاحب کہنے لگے کہ دعوی کرنے والا ہی مدعی ہوتا ہے۔میں نے کہا مرزا صاحب نے دعوی پیش کیا ہے۔ہم ان کا دعوئی پیش کریں گے۔پھر آپ اسکی تردید کریں اور دونوں طرف سے قرآن کریم ہی پیش ہو گا۔سب کہنے لگے کہ بالکل ٹھیک ہے۔وہ لوگوں پر برس پڑا کہ تم لوگ جاہل ہو۔میں نے کہا منشی لال حسین صاحب اس معاملہ میں جاہل نہیں ہیں۔یہ عدالت میں دعوے کر کے مدعی بھی بنتے ہیں اور کبھی مدعا علیہ بھی بنتے ہیں۔جب آپ جیل میں گئے تھے تو کیا سرکار مدعی نہ تھی اور آپ ملزم نہ تھے ؟ اور آپ سرکار کے دعوے کو خلاف قانون ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔غصہ میں آکر کہنے لگا کہ میں کب جیل گیا تھا۔میں نے فوراً ترک مرزائیت اس کی کتاب نکال کر لوگوں کے سامنے رکھ دی اور کہا کہ جناب نے خود اس میں درج کیا ہے کہ گورنمنٹ نے مجھے جیل بھیج دیا۔تو کیا صاحب آپ اقبالی مجرم ہو گئے ہیں یا ابھی کچھ فرق ہے۔اگر میں آپ کی ساری ہسٹری لوگوں کے