میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 147 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 147

135 لائے ہوئے تھے جلسہ گاہ میں حافظ عبد القادر وغیرہ اگر شور مچانے لگے کہ جلسہ نہ ہو۔بہت بھاری مجمع اکٹھا ہو چکا تھا۔احمدیوں اور غیر احمدیوں کے علاوہ ہندو سکھ اور عیسائی بھی بکثرت موجود تھے ڈپٹی انسپکٹر صاحب نے شور کرنے والے مولویوں کو شور کرنے سے روک دیا اور کہا اگر آپ جلسہ سن سکتے ہیں تو ٹھہریں ورنہ یہاں سے چلے جائیں۔پولیس کا بڑا زبردست انتظام تھا۔تانگوں پر کچھ سپاہی بکثرت ہتھکڑیاں لے کر وہاں پہنچ گئے۔غرضیکہ ڈیڑھ دن کا یہ جلسہ بڑے پر امن طریق پر جاری رہا ہم تینوں باری باری تقریریں کرتے رہے۔اس جلسہ کا لوگوں پر بڑا اچھا اثر ہوا اور بہت سے لوگ جن سے پہلے میں واقف نہ تھا واقف بن گئے۔بہار سے آنے والے غیر احمدی احباب اپنی اپنی بیت میں جا کر نماز ادا کر آتے تھے۔انہیں ان کے کسی مولوی نے کھانا تو درکنار ، پانی تک نہ پوچھا اور ہم صبح و شام اعلان کرتے تھے کہ جلسہ میں شامل ہونے والا کوئی دوست بھوکا نہ رہے۔یہ لنگر حضرت مسیح موعود کی طرف سے سب کے لئے جاری ہے سب غیر احمدی احباب بھی آکر کھانا کھاتے رہے اور اپنے مولویوں کو برا بھلا کہتے رہے کہ ہم ان کی اتنی خدمت کرتے ہیں مگر جب ہم ان کے پاس آئے ہیں تو انہوں نے پانی تک نہیں پوچھا۔تیسرے دن سب احباب واپس تشریف لے گئے مگر مولویوں میں آگ بھر گئی۔وہ "موتوا بغيظكم" کے مصداق ہو گئے۔ہمارے جلسہ کا ارد گرد کے دیہات میں خوب چرچا ہو گیا اور ہمارے لئے تبلیغ کا رستہ کھل گیا۔روپڑ میں مجھے رہتے ہوئے ابھی تھوڑے ہی دن وپڑ میں ایک مناظرہ گزرے تھے کہ وہاں کے مولویوں نے مجھے مناظرہ کرنے کا چیلنج دیا۔میں نے منظور کر لیا۔دفتر کی اجازت سے تاریخ کا تعین کر لیا۔مناظرہ میں شامل ہونے والوں نے کھانے کا انتظام خود ہی کر لیا۔اہل حدیثوں کی :