میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 146 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 146

134 ہے۔ہمارے مولوی عبد الصمد صاحب پٹیالوی بڑے نڈر احمدی تھے اور تبلیغ سے عشق رکھتے تھے۔وہ روپڑ میں گئے۔وہاں کے لوگوں نے آپ کو پتھر وغیرہ مارنے مگر آپ بھی وہاں جانے سے باز نہ آئے۔ایک دن وہاں کے شریروں نے آپ کو شہر سے باہر لا کر آپ کو گرا کر منہ میں ریت بھر دی جس سے بمشکل آپ کی جان بچی اور وہ شریر وہاں سے بھاگ گئے۔اس کے بعد آپ روپڑ نہ گئے بلکہ ادھر ادھر دوسری جماعتوں میں جاتے رہے اور روپڑ کو کوفہ ہی کہتے۔ایک دن مجھ سے کہنے لگے کہ آپ اپنا ہیڈ کوارٹر اس جگہ بنائیں اور ارد گرد کے علاقوں میں بھی دورہ جات کریں یہاں پر آپ کو روٹی وغیرہ کی بھی آسانی ہو گی۔خود ہی پکا کر خود ہی کھانی ہو گی۔مجھے ان کی بات بہت پسند آئی اور میں نے اپنا ہیڈ کوارٹر اثر پور ہی میں بنا لیا۔وہاں سے کا ٹھگڑھ سات آٹھ میل کے فاصلہ پر تھا اور سکو دال ، چک لوہت بمبوالی اور غوث گڑھ میں کافی جماعتیں تھیں۔میں نے پروگرام بنا کر وہاں کے خوب دورے کئے اور سب جماعتوں سے مل کر مشورہ کیا کہ روپڑ میں وسیع پیمانے پر جلسہ کیا جائے۔میں نے وہاں کے سب انتظامات طعام و مکان خفیہ طور پر ہی طے کر لئے اور اشتہار بھی چھپوا لیا جس کا موضوع "روپڑ میں احمدیہ تبلیغی جلسہ" تھا۔روپڑ کے مولوی اس پر واویلا کرنے لگے کہ ہم یہاں جلسہ نہیں ہونے دیں گے۔یہ اپنی رہائش کا انتظام یہاں نہیں کر سکیں گے جب کہ خفیہ طور پر میں نے سب انتظامات کر لئے تھے۔مقررہ تاریخ پر انبالہ شہر، سرہند ، خانپور بیر اور کھرڑ کا ٹھگڑھ ، بلا چور غوث گڑھ ، ممبودالی، فر، چک لوہٹ ، مکرووال اور اثر پور کے احمدی احباب غیر احمدی دوستوں کو بھی ساتھ لے کر وہاں پہنچ گئے۔ہم سب مل کر شہر سے جلوس کی صورت میں نکل کر شہر کے پل پر پہنچے۔وہاں سب نے وضو کیا اور واپس آکر جلسہ گلہ میں نماز ادا کی۔مرکز سے مولوی عبد الغفور صاحب اور مولوی محمد یار صاحب تشریف