میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 137 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 137

125 ہی اس کا منہ کھول کر پانی ڈالا اور اس پر پانی چھڑ کا۔قریبا پانچ منٹ کے بعد اس نے انگڑائی لی میں نے پھر اس کے منہ میں پانی ڈالا اور دوبارہ اس کے جسم پر پانی چھڑکا۔تھوڑی دیر کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں اور میرے ہاتھ میں نبض دیکھ کر بولی کہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔میں نے کہا کچھ نہیں آپ فکر نہ کریں۔وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔صوفی صاحب اسے بتانے لگے کہ اپنے ریشمی کپڑے پھاڑ کر تو نے پھینک دیئے تھے۔چینی اور شیشے کے بھی کافی برتن توڑ دیئے ہیں اور اپنا زخمی بازو بھی اسے دکھانے لگے جسے اس نے کاٹا تھا۔وہ بہت شرمندہ ہوئی۔اسے کہنے لگے کہ میری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے مولوی صاحب یہاں موجود تھے جنہوں نے آپ کا علاج کیا اور آپ ک خدا تعالی نے شفا دے دی۔میں نے صوفی صاحب سے جانے کی اجازت چاہی کیونکہ نماز کا وقت بھی ہو چکا تھا۔وہ دونوں یک زبان ہو کر بولے کہ نہیں ہم نہیں جانے دیں گے۔"آپ دونوں ہیں نماز پڑھ لیں" اس کی بیوی نے کہا میں نہیں جانتی کہ میرے ساتھ آج ایسا کیوں ہوا۔یہ میرے اختیار سے باہر کی بات ہے اس لئے مولوی صاحب ! میرے دو حقیقی بھائی ہیں اور میں آپ کو آج سے اپنے ایمان سے تیسرا حقیقی بھائی سمجھوں گی۔آپ بے دھڑک جس وقت چاہیں آجایا کریں اور ضرور آیا کریں۔میں نے کہا میری بہن آپ کا بہت بہت شکریہ۔میری بھی دو حقیقی بہنیں ہیں اور تیسری آپ کو آج سے سمجھوں گا۔پھر میں نے اس سے کہا کہ میری پیاری بہن کافر اور مومن بھائی یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ کے خیال میں ہم کافر ہیں تو بات بنتی نہیں۔کہنے لگی مولوی صاحب بے شک میں اس بیماری سے قبل آج تک یہی خیال کرتی رہی مگر اب جب کہ صوفی صاحب نے میری حالت بیان کی ہے آپ کی دعا اور نتیجہ شفاء کا ذکر کیا ہے تو میرے دل پر اس کا بہت اثر ہوا ہے۔جن کے مرید ایسے ہیں کہ خدا ان کی فریاد سنتا ہے اور وہ یہ جانتے ہوئے کہ یہ شخص ہمارا سخت