میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 138
126 مخالف ہے اور برا سمجھتا ہے اس کے بعد بھی اتنے ہمدرد ہو جاتے ہیں کہ دعا کرنے سے دریغ نہیں کرتے تو یہ لوگ آپس میں کتنے ہمدرد ہوں گے۔مولوی صاحب میں آج سے ان تمام کلمات سے جو میں نے حضرت صاحب کے خلاف بولے ہیں تو بہ کرتی ہوں۔خدا تعالیٰ مجھے معاف کرے۔ہم دونوں نے آمین کہا۔میں نے شرائط بیعت کا فارم دیا اور انہوں نے اسے غور سے پڑھ کر دستخط کر دیئے۔ہم نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔میں اگلے دن عشاء کے وقت دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے واپس آگیا۔ہماری اس بہن کا نام غالبا ثریا بیگم اور لڑکی کا نام طاہرہ بیگم تھا۔پھر تربیت اور دلجوئی کے لئے گاہے بگا ہے وہاں جاتا رہا۔اس نے بھی پھر کبھی ہمارے جلسہ سے غیر حاضری نہ کی۔جب اس کی سہیلیوں کو اس بات کا علم ہوا تو ملامت کرنے لگیں لیکن چونکہ وہ خود تعلیم یافتہ تھی اس لئے اس کے آگے کوئی بھی دم نہ مار سکی۔دو سرے دن مجھے قادیان سے آرڈر آگیا کہ انبالہ شہر میں خانہ خدا کی تعمیر آپ انبالہ فورا" چلے جائیں کیونکہ وہاں مبلغ کی اشد ضرورت ہے۔میں اسی دن انبالہ چلا گیا۔جماعت کے احباب بڑی محبت سے پیش آئے۔ان دنوں وہاں کے امیر ریٹائرڈ ہیڈ کلرک ڈپٹی کمشنر با بو عبد الرحمان تھے۔میں نے بھی تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔انبالہ کی جماعت کے احباب جمعہ اور نمازیں ایک بوسیدہ سے مکان ہی میں پڑھا کرتے تھے۔کوئی بیت نہ تھی۔میں نے وہاں بیت بنانے کی تحریک کی۔وہ ہر دفعہ یہی بذر کرتے تھے کہ ایک تو بیت کے لئے جگہ نہیں ملتی اور دوسرے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی و دیگر بزرگان جماعت اسی جگہ نماز پڑھاتے رہے ہیں۔میں نے کہا کہ مہمان کو میزبان جس جگہ بٹھائے گا مہمان تو وہیں بیٹھے گا۔سب لوگ خوش ہو کر کہنے لگے کہ یہ بہت اچھی جگہ ہے۔میں نے باہو عبد الرحمن صاحب امیر جماعت سے کہا کہ آپ کو اللہ تعالٰی نے تین مکان دیئے