میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 136
124 آنا پسند نہیں کرتی اس لئے میں کرسیاں باہر ہی لے آیا ہوں۔میں نے کہا آپ مجھے اس وقت اجازت دیں۔پھر کسی وقت میں دوبارہ یہاں آؤنگا۔لیکن صوفی صاحب نہ مانے اور مجھے وہیں بیٹھنے پر مجبور کر دیا ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ ایک برقعہ پوش عورت آئی اور یہ کہتے ہوئے کہ یہ کوئی شریف آدمیوں کا کام ہے کہ راستہ میں بیٹھیں اور صوفی صاحب کے گھر میں داخل ہو گئی۔میں بہت شرمندہ ہوا کہ صوفی صاحب نے میرا کہا نہ مان کر بے عزتی کروا دی ہے۔صوفی صاحب کہنے لگے کہ یہ میری بیوی ہے جو اپنے والدین کے گھر سے آئی ہے یہ کہہ کر وہ اپنے گھر بھاگے بھاگے گئے۔میں وہیں اکیلا کھڑا رہا اور حیران ہوا کہ یہ بھاگ کر اندر کیوں گئے ہیں۔ابھی چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ وہ واپس آبدیدہ آنکھوں سے آگئے۔مجھے اپنا خون آلود بازو دکھانے لگے جس پر دانتوں کے نشانات تھے اور خون بہہ رہا تھا۔مجھ سے کہنے لگے مولوی صاحب خدا کے لئے ذرا گھر کے اندر چلیں اور اس کا علاج کریں۔آپ میرے بزرگ بھائی ہیں۔( آپ سے کیا پردہ ہے) جلدی چل کر دیکھیں بڑا نقصان ہو رہا ہے۔میں اندر گیا۔اس کی بیوی کی حالت دیکھ کر میں واپسی کے لئے مڑا تو صوفی صاحب خدا کا واسطہ دے کر روکنے لگے۔اور کہنے لگے کہ کچھ علاج کریں۔میں نے کہا بے شک یہ ہماری بہن ہے۔اس کے سر کے بال کھلے ہیں اور اس کی آنکھیں آگ کی طرح سرخ ہیں۔میں کس طرح قریب جا سکتا ہوں۔صوفی صاحب بولے کہ اگر میں ڈاکٹر کو لاؤں تو وہ بھی اسی حالت میں اگر دیکھے گالور میں تو اسے اس حالت میں چھوڑ کر ایک قدم بھی باہر نہیں جا سکتک میں ہمت کر کے اندر داخل ہوا اور صوفی صاحب سے بستر بچھانے کو کہا اور آگے بڑھ کر اس عورت کا بازو پکڑ لیا اور بستر پر لٹا دیا۔پانی پر دم کر کے اسے پلایا اور نبض پر ہاتھ رکھ کر دعا کرنے لگا۔وہ میرے لٹانے کے ساتھ ہی بے ہوش ہو گئی۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے خود