میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 135
123 سکتا تو اس نے سارے شہر میں یہ مشہور کر دیا تھا کہ میں نے سارے مجمع میں احمدیوں کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔اب یہ تو ہو سکتا ہے کہ آپ کے آنے کی وجہ سے پانچ یا دس روپے کی رعایت کر دوں اس جگہ ان کے دوسرے اہل حدیث بھائی کافی ہیں۔یہ ان سے مدد لے سکتے ہیں۔میرے پاس ان کا دوبارہ آنا درست نہ تھا۔ہمارے ایک بھائی سید میر قاسم علی صاحب سے ایک آریہ نے غلطی سے تین صد روپے مولوی ثناء اللہ صاحب کو دلا دیئے تھے۔انہوں نے تو ایک پیسہ بھی واپس نہ کیا تھا۔مجھے تو ابھی تین صد روپیہ سے پچاس روپے ہی واپس ہوئے ہیں۔یہ اب مولوی ثناء اللہ صاحب کو لکھ سکتے ہیں کہ میری مدد کر دو۔میں تو آپ کے کہنے سے رعایت کر سکتا ہوں مگر پورے پیسے واپس نہیں کرونگا۔وہ بے چارے چلے گئے مگر تھوڑی دیر کے بعد چند معزز احمدیوں کو ساتھ لے کے پھر آگئے اور مجھے بہت مجبور کیا کہ اس کے پیسے واپس کر دو ورنہ یہ مرجائے گا۔اس کے گھر میں اس وجہ سے فتنہ پڑ گیا ہے۔میں نے کہا کہ لکھو کہ میں پچاس روپے معاف کرواتا ہوں اور اب کبھی بھی احمدیوں کی مخالفت نہیں کروں گا۔اس بے چارے نے اسی طرح لکھ دیا۔میں نے اسے پروٹوٹ اور سارے روپے واپس کر دیئے اور وہ شکریہ ادا کر کے چلے گئے۔بعد میں ہم نے لدھیانہ شہر میں جتنے بھی جلسے کئے کسی نے کبھی کوئی اعتراض کرنے کی کوشش نہ کی۔ایک دن پہلی دفعہ میں لدھیانہ شہر کے سیکرٹری تبلیغ ایک غیر معمولی واقعہ صوفی عبدالرحیم کے مکان پر گیا تو وہ بیٹھنے کے لئے کرسیاں باہر گلی میں لے آئے۔میں نے کہا کہ یہ راستہ ہے یہاں ہمیں نہیں بیٹھنا چاہئے۔کہنے لگے کہ میری بیوی بڑے امیر خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور یافتہ بھی ہے مگر احمدیت کے نام سے اسے بہت نفرت ہے۔وہ کسی احمدی کا گھر میں