میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 134
122 والوں پر بہت اچھا اثر پڑا اور جلسہ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔بعد میں احمدی احباب مجھے دار البیعت میں چھوڑ کر گئے۔دار البیعت کے دالان کے دو حصے کئے ہوئے تھے۔جس حصہ میں حضور نے ابتدائی بیعتیں لینی شروع کی تھیں وہاں مہمانوں کے لئے کمرے بنے ہوئے تھے اور دوسرا حصہ محافظ کے لئے تھا۔ان دنوں وہاں کے محافظ مولوی سید سعد اللہ شاہ صاحب دہلوی مع اپنی اہلیہ زینت بی بی اور بیٹی امتہ العلیم صاحبہ کے رہا کرتے تھے اور شاہ صاحب باوجود عمر رسیدہ ہونے کے ہر جلسہ میں جوانوں کی طرح شریک ہوتے تھے۔عربی اور فارسی کے کافی عالم تھے۔نہایت باعمل اور نیک احمدیت کے فدائی تھے مگر قدرے کم گو تھے۔جس حصہ میں حضور بیٹھا کرتے تھے اور جہاں انہوں نے پہلی بیعت لی تھی اس حصہ میں میں رہا کرتا تھا۔شاہ صاحب اپنے گھر سے دوبارہ میرے پاس آگئے اور بوڑھے کی حرکات پر خوب ہنستے رہے۔خیر رات ہو گئی اور ہم سو گئے۔فجر کی نماز پڑھانے کے بعد میں درس دے رہا تھا کہ وہی رات والا بوڑھا آدمی چار معزز آدمیوں کو ہمراہ لیکر میرے پاس پہنچ گیا اور السلام علیکم کہہ کر سب بیٹھ گئے۔بعدہ اس بوڑھے کی طرف سے کہنے لگے کہ رات کو اس کی بیوی نے اس کی بہت بے عزتی کی ہے کہ تم غریب آدمی جو لوگوں کی تانی تن کر گزارہ کرتے ہو تم وہاں بڑے مولوی بننے کو کیوں کھڑے ہو گئے۔اب چاہے لوگوں کی تانیاں بیچ کریا مجھے بیچ کر پچاس روپے پورے کرو۔میں تو اپنی بیٹی کے پاس چلی جاتی ہوں۔رات سے اسے پیچش کی بھی شکلیت ہے۔صبح اسے خون بھی آیا ہے۔آپ اسے معاف کر دیں اور اس کے پچاس روپے واپس لوٹا دیں اور اس کا پرونوٹ بھی واپس کر دیں۔اسی صورت میں یہ بیچ سکتا ہے ورنہ زندہ رہنا مشکل ہے۔میں نے کہا کہ مجھے اس بڑے میاں سے ہمدردی ہے اور آپ صاحبان کی بھی قدر کرتا ہوں مگر کیا آپ یہ خیال کر سکتے ہیں کہ اگر میں بھری مجلس میں حوالہ نہ دکھا