میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 117
105 مار ڈالنا تھا۔سارا ہجوم حیران ہو گیا اور رونا دھونا ختم ہوا اور خوشی کا گانا شروع ہو گیا۔ہندو شکر گزار تھے اور مسلمان آریوں سے بیزار ہو گئے اور راتوں رات گاؤں کے ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل کر پنچائیت کی اور فیصلہ کیا کہ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ آریوں کا مذہب گندہ ہے۔اگر یہ شریف ہوں تو جوان لڑکیوں کو ساتھ لے کر دربدر نہ پھریں۔اس طرح ہماری بچیوں پر برا اثر پڑے گا اور ایمان دھرم بھرشٹ ہوگا۔ان سے صبح کہہ دو کہ مہربانی کر کے یہاں سے چلے جائیں۔ہم تمہارے مذہب و مجلس میں ہر گز شامل ہونا نہیں چاہتے ہم جس مذہب پر ہیں دہی ٹھیک ہے۔صبح جب آریوں کو ایسا پیغام پہنچا تو وہ اسی وقت وہاں سے چلے گئے کیونکہ جس مکان میں وہ ٹھرے ہوئے تھے اس نے کہا کہ میری برادری ناراض ہے اس لئے جلد مکان خالی کر دو۔میں نے وہاں تین دن قیام کیا۔میرے گاؤں والے مجھ سے کہنے لگے کہ مولوی صاحب ہمیں بیل خرید دیں۔میں نے کہا مجھے تو کوئی شناخت نہیں ہے۔وہ مصر ہو گئے کہ جو آپ خرید کر دیں گے ہم وہی لیں گے۔میں نے کہا اچھا پھر منڈی چلیں۔وہاں بیلوں کی ہزاروں جوڑیاں تھیں۔میں نے ایک جوڑی کے لئے کہا کہ یہی لے لو۔وہ چار صد روپے کی لے دی۔وہ کہنے لگے کہ مولوی صاحب پچاس روپے زائد قیمت دی گئی ہے۔میں نے کہا کہ نہیں آج کل کی قیمت کے مطابق یک صد روپے سے ہمیں رعایتی مل گئے ہیں مگر انہیں اطمینان نہ ہوا۔اتنے میں ایک بیوپاری بیل خرید نے آگئے۔کہنے لگے اس جوڑی کے کیا لو گے۔میں نے کہا پانچ صد پچاس روپے لیں گے۔انہوں نے پانچ صد روپیہ رکھ دیا کہ ہم یہی دیں۔گے۔آخر ہم نے بھی محنت کر کے چار پیسے کمانے ہیں۔میں نے کہا یہ ہم نے اپنے لئے خریدے ہیں۔ہم نے صرف یہ دیکھنا تھا کہ ہم زیادہ قیمت تو نہیں دے آئے۔وہ کہنے لگے کہ ہم پانچ صد پچیس روپے تک دینے کو تیار ہیں۔ہمارے گاؤں والے