میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 113 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 113

101 زخمی ہو گیا اور بے حساب گالیاں نکالتا رہا اور کہنے لگا کہ اگر پٹھانوں کے محلہ میں تم کو میں نے دیکھ لیا تو جان سے مار دوں گا۔ہم سب لوگ واپس چلے آئے اور سب سامعین نواب کی اس ناشائستہ حرکت پر افسوس کرتے رہے اور ان کی حماقت اور ماری شرافت کا تذکرہ عام لوگوں میں ہوتا رہا۔وہ پٹھان لڑکے میرے لئے دودھ وغیرہ لے آئے ساتھ پان وغیرہ کی بھی خوب بھر مار رہی۔شہر سے ضرورت کی اشیاء خرید کر ہم واپس گاؤں آگئے۔راستہ میں میرے علم کے مطابق کچھ اشعار میری زبان سے نکلے جن میں سے صرف سات آٹھ اشعار درج ذیل ہیں باقی سب بھول چکے ہیں۔کل بیس کے قریب اشعار تھے۔گاؤں پہنچ کر میرے ساتھیوں نے سارے حالات لوگوں کو سنا دیئے۔سب لوگوں نے نواب کی جہالت پر بہت افسوس کا اظہار کیا۔نہ ڈراؤ ہمیں ہم ڈرائے ہوئے ہیں نہ مارو ہمیں ہم جلائے ہوئے ہیں محلہ سے اپنے ہمیں روکتا ہے که تبلیغ کرنے کیوں آئے ہوئے ہیں ترے روکنے سے نہیں رک سکیں گے خلیفہ کے ہم تو بٹھائے ہوئے ہیں۔ومہ ہمارے وفات مسیح ہے اتاریں گے وہ جو چڑھائے ہوئے ہیں بعد از نبوت یہ باتیں بھی ہونگی بتائیں گے ہم جو پڑھائے ہوئے ہیں خدا نے مقرر کئے چار درجے لئے تین چوتھا چھپائے ہوئے ہیں صادق شہید اور صالح تو نے پر نبوت سے چکر میں آئے ہوئے ہیں جب بے عمل عالم کا بازو نہ پہنچا تو کڑوی بتا کر بنائے ہوئے ہیں یہ سب اشعار ملکانہ بھائی مزے لے لے کر سنا کرتے تھے اور یہی میری غرض بھی تھی آخر خدا نے دو ماہ کے عرصہ کے بعد نواب بقاء اللہ خاں پر پستول کا مقدمہ ی کروا دیا اور چار سال کے لئے جیل کی ہوا کھانے کے لئے چلے گئے۔سننے میں آیا