میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 112
100 ނ دیا۔میرے دو تین شاگرد بھی ہمراہ چل دیئے۔ہم فرک (ایک چھوٹی سی گاڑی) پر سوار ہو کر چل دیئے اور شہر پہنچے۔ساتھ دو تین کتابیں بھی لے گئے۔شہر میں میرے چار پٹھان دوست جو کہ علی گنج کے رہنے والے تھے مل گئے۔وہ میرے اس طرح واقف ہو گئے تھے کہ آریوں سے میری گفتگو ہوتی تھی تو وہ سنتے تھے اور بہت خوش ہوتے تھے۔اس لئے وہ میری بہت عزت کرتے تھے۔میں نے انہیں بتایا کہ نواب بقاء اللہ خان صاحب نے اس کام کے لئے بلایا ہے۔وہ بھی میرے ساتھ ہو لئے۔ہم اکٹھے وہاں پہنچے۔ان کے ماموں بڑے شریف آدمی تھے۔بڑی خندہ پیشانی - ملے۔حیات و ممات مسیح کے مسئلہ پر گفتگو ہوئی۔ان کے دلائل کی قرآنی آیات سے تردید کی گئی اور عقلی دلائل کی عقلی دلائل ہی سے تردید کی تو انہوں نے قدرے خاموشی اختیار کرلی۔تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے سوال کیا کہ کیا خدا تعالی میں یہ قدرت نہیں کہ انہیں زندہ آسمان پر لے جائے۔میں نے کہا کہ خدا تعالیٰ میں یہ طاقت موجود ہے۔نہ صرف مسیح بلکہ ساری دنیا کو آسمان پر لے جائے۔اس کو قدرت حاصل ہونے کا سوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ مسیح کو آسمان پر لے جانا قرآن کریم سے ثابت ہے کہ نہیں۔انہوں نے اقرار کیا کہ میں آپ کے بیان کردہ دلائل پر ضرور غور کردن گاوہ تو بے چارے خاموش ہو گئے مگر نواب بقاء اللہ خاں صاحب کو بہت رنج ہوا کہ میرے ماموں صاحب کو اتنے مجمع میں انہوں نے کیوں خاموش کرا دیا اور لاجواب کر دیا۔اس طرح میری ہتک ہوئی ہے۔میں اس قادیانی کو زندہ نہیں جانے دوں گا۔سارا مجمع حیران ہو گیا کہ اس نواب کو کیا ہو گیا ہے۔ماموں اس کے مناظرہ نہیں کر سکے اور غصہ پردیسیوں پر۔غرضیکہ اندر سے پستول نکال لائے کہ میں ابھی ختم کر دونگا۔ان پٹھان لڑکوں نے بڑی کوشش سے پستول چھینا تو تلوار لے کر میری طرف لپکے وہ بھی ان لڑکوں نے چھینی۔ایک نوجوان کا ہاتھ بھی ا