میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 85 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 85

73 چھٹا بیچ ہی اس کے منہ میں ڈالا تھا کہ اس نے اپنی بیوی کو میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ انہیں سو روپیہ دے دو۔گاؤں کے سب لوگ اس بات پر حیران ہو گئے کہ خدا تعالٰی نے صرف پانی سے ہی شفاء دے دی۔اس کی بیوی نے سو روپے گن کر میرے سامنے رکھ دیئے۔میں نے نمبردار بھیجو خان کو کہا کہ اپنے پاس رکھ لو۔اس نے مسکرا کر روپے اٹھا لئے۔وہاں کے تمام لوگ خوش بیٹھے تھے اور مریض نے آہستہ آہستہ باتیں کرنا شروع کر دیں لیکن یہ کہہ کر کہ ابھی آرام کرو اسے روک دیا۔وہ مجھے اپنے پاس سے اٹھنے نہ دیتا تھا۔میں نے دس روپنے مریض کی بیوی اور پانچ روپے اس کی بہو سے بھی وصول کئے اور نمبردار کو دے دیئے۔چونکہ گھر والے بھی اکیلے تھے اس لئے مریض کی لڑکی کو جو میری شاگرد تھی اپنے گھر بھیج دیا۔اور ہم صبح کی نماز کے لئے اس مریض کے گھر سے ہی بیت چلے گئے۔بیت میں نمازی آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ "سب سن لو بھائی! ہمارے مولوی صاحب جو بات کہا کریں مان لیا کرو۔دیکھ لو اللہ میاں گلے سے پکڑ کر مولوی صاحب کی بات پوری کروا دیتا ہے۔سارا دن گاؤں میں خوب چرچا رہا کہ مولبی صاحب کی اللہ میاں بات مانتا ہے۔ہم نے خود دیکھ لیو۔اللہ کے فضل سے ہماری بیت مکمل ہو گئی۔اس میں غسل خانہ مینار باہر کا دروازہ ، چار دیواری کنواں غرضیکہ دور ہی سے بیت کی شکل دکھائی دینے لگی۔خدا کے فضل و کرم سے یہ بہت دور نواب اچھن خاں سے بات چیت دراز سے دکھائی دینے لگی۔اب وہاں کے آریوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ نگلہ گھنو کے لوگ اب تو پکے مسلمان ہو گئے ہیں اب ان کے پاس جانا ہی فضول ہے۔دیو بندی احباب دانت پینے لگے کہ اگر یہ گاؤں ہمیں مل جائے تو اس طرح ہمیں بنی بنائی بیت اور اس کے ساتھ ملحقہ سکول