میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 86 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 86

74 دونوں مل جاتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے نواب اچھن خان علی گنج کے ذریعہ ہمارے گاؤں پر حملہ کرنے کی تیاری کی۔معمر نواب صاحب اچکن پہنے ہوئے یکہ پر تشریف لائے۔میں تو ان سے اس سے قبل واقف نہ تھا۔سب لوگ بڑے تپاک سے انہیں ملے۔اسکول کے بچوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور پھر بیت بنانے کی مجھے مبارک باد دی اور کہنے لگے کہ مولوی صاحب آپ نے بیت بنا کر بہت اچھا کام کیا ہے۔ویسے آپ بہت خوش اخلاق ہیں لیکن مجھے افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ باقی سب علماء آپ کے خلاف ہیں اور سب نے مل کر آپ لوگوں کے خلاف فتوی دے دیا ہے۔اس لئے ہم بڑی محبت سے آپ کو جدا کر رہے ہیں ایسا کرنے پر ہم مجبور ہو چکے ہیں۔نہ تو ہم آپ کے ہاتھ کا پکا ہوا کھا سکتے ہیں اور نہ اپنے ہاتھوں کا پکا ہوا آپ کو کھلا سکتے ہیں۔میں اسی لئے خود حاضر ہوا ہوں تاکہ اپنے ہاتھوں سے آپ کو رخصت کر آؤں۔میں نے کہا نواب صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے نہایت اچھے الفاظ میں مجھے یہاں سے اس لئے نکل جانے کا مشورہ دیا ہے کہ سب علماء نے متفقہ طور پر مجھ پر فتویٰ لگایا ہے۔اگر آپ اور دوسرے گاؤں والے مجھے یہ حکم دیں گے کہ میں اس گاؤں سے نکل جاؤں تو میری کیا مجال ہے کہ اس جگہ ٹھرا رہوں۔آپ تسلی رکھیں میرے دل میں آپ کی بہت عزت ہے۔میں دین حق کا خادم ہوں۔اگر اس جگہ نہیں تو کسی اور جگہ خدمت کرنے کے لئے چلا جاؤنگا۔مگر آپ سے یہ امید رکھتے ہوئے کہ آپ سنجیدہ آدمی اور خاندانی لوگ ہیں یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ایک ہزار چور اور ڈاکو مل کر کسی ایسے آدمی کے متعلق جو کسی خاص سرکاری ذمہ دار عہدے پر متعین ہو یہ رپورٹ تھانہ میں درج کروا دیں کہ یہ آدمی بھی چور اور ڈاکو ہے تو کیا گورنمنٹ ان رپورٹ کرنے والے لوگوں کی حقیقت دیکھے گی یا اپنے ہی مقرر کردہ افسر کو فورا گر فتار کر کے عمر بھر کی سزا