میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 31 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 31

25 طلب کئے۔میں دوبارہ گیٹ پر گیا تو وہ نوجوان ابھی وہیں کھڑا تھا۔میں نے اسے ساری حقیقت بتائی تو اس نے مزید پانچ روپے مجھے دے دیئے اور اس طرح میں نے سرٹیفکیٹ حاصل کیا اور ساتھ ہی دفتر سے مجھے پچاس روپے الاؤنس بھی ملا۔اس کے علاوہ کراچی جانے کے لئے ریلوے کا پاس بھی مل گیا۔میں واپس گیٹ پر آیا تو وہ نوجوان بدستور کھڑا تھا۔اس نے بڑے پیار سے پوچھا کہ میاں صاحب سنائیں آپ کا کام بن گیا ہے؟ میں نے سارا واقعہ اسے کہہ سنایا اور سارا الاؤنس اسے دیدیا کہ آپ نے بغیر کسی واقفیت کے تین دن میرا خرچ اٹھایا اور پھر احسان بھی کیا ہے اور اس وقت مجھے یہی کچھ ملا تھا اور اب ہم صبح سات بجے کراچی جا رہے ہیں۔وہاں سے جہاز پر سوار ہو کر بصرہ جائیں گے۔اس نے ساری رقم گئی اور واپس میری جیب میں ڈال کر کہا کہ میں کوئی پیسہ نہیں لونگا۔میرے دل میں آپ سے امرتسر میں ہی قدرتی محبت پیدا ہو گئی تھی سو اب آپ کا کام بن گیا ہے اس کی ہی مجھے بہت خوشی سواب ہے۔اگر آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھ سے لے لیں۔کافی دیر تک اس سے باتیں ہوتی رہیں دل ہی دل میں اپنے معبود حقیقی کا میں بہت شکر گزار تھا کہ غیب سے اس نے مدد فرما کر اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیا۔ہے کیوں کے سر پر یا رب تیرا ہی سایہ رہے بڑی مشکل سے میں نے اس کے دس روپے واپس کئے اور ماہ ستمبر ۱۹۱۸ ء کی صبح کو لاہور سے بھرتی شدہ قافلہ کے ساتھ بذریعہ ٹرین کراچی روانہ ہوا۔میری غیبی مدد کرنے والا دوست پلیٹ فارم پر ہی کھڑا رہا اور جب گاڑی چلنے لگی تو سلام کہہ کر چلا گیا اور پھر دوبارہ کبھی نہیں ملا۔لاہور میں قیام کے دوران رات کو میں نے خواب میں اس قسم کے میدان میں کوارٹر دیکھے تھے جیسے بعد میں ہمیں کراچی میں ملے ف پھر کراچی میں قیام کے دوران ویسا ہی جہاز دیکھا جس پر بعد میں ہم سوار