میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 30
24 کیا۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی بھی وہیں تشریف فرما تھے۔قریباً نہیں احباب نے سرکاری باغ میں جا کر نماز عید پڑھی اور میں واپس کیمپ میں آگیا۔میں دوسرے دن پھر ٹرائی کے لئے گیا۔انگریز فورمین نے لڑائی لی اور سیکنڈ گریڈ فٹر کا سرٹیفیکیٹ دیا میں جب اسے سرکاری دفتر میں داخل کرانے گیا تو کلرک نے رشوت مانگی مگر میرے نہ دینے پر اور فارم سے قادیان کا نام پڑھ کر وہ جل گیا اور اس نے اس فارم پر فٹر قلی کر دیا جس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔میں افسر کے پاس گیا اور اسے سارا ماجرا سنایا۔اس نے کہہ دیا کہ میں اب کچھ نہیں کر سکتا۔میں نے اس سے ریل کا پاس طلب کیا تو اس نے دے دیا۔میرے پاس صرف اس وقت آٹھ آنے ہی تھے۔میں گاڑی میں سوار ہو کر نصف شب کے قریب امر تسر پہنچا۔اسی پریشانی کے عالم میں ایک ماہ گھر سے دور بھی رہا اور کوئی کام بھی نہ ملا۔غرضیکہ بہت دعا کی اور رات امرتسری میں گزاری۔صبح کو فوٹو کھنچوا کر بھرتی ہو گیا۔ڈاکٹری رپورٹ کے لئے پھر انہوں نے پانچ روپے طلب کئے۔میرے پاس اب کچھ بھی نہ تھا۔نیست پریشان بیٹھا تھا کہ خدا تعالٰی نے میری مدد فرمائی۔میرے پاس ایک ہندو جمھور جو ترن تارن کا رہنے والا تھا اور بہت شریف نوجوان تھا آیا اور مجھ سے پریشانی کی وجہ دریافت کی۔میں نے وجہ بتائی تو اس نے پانچ روپے نکال کر دیئے اور کہا کہ فورا جا کر سرٹیفکیٹ لے لو۔دفتر بند ہونے والا ہے۔میں نے جا کر سرٹیفکیٹ حاصل کیا اور واپس آکر اس کا شکریہ ادا کیا اور اس سے کہا کہ اب میں کس طرح آپ کے پانچ روپے لوٹا سکتا ہوں ، آپ ایڈریس دے جائیں۔اس نے کہا کہ آپ کوئی فکر نہ کریں۔اب یہ لوگ آپ کو لاہور لوکو ورکشاپ میں بھیج دیں گے اور میں بھی وہیں جا رہا ہوں۔ہم دونوں نے اکٹھے ہی سفر کیا اور صبح ہم کارخانہ میں گئے۔وہ بے چارہ کارخانہ کے گیٹ پر ہی کھڑا رہا۔قریباً چار بجے شام مجھے جنرل نٹر کا سرٹیفکیٹ ملا اور مستری نے پانچ روپے