میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 32
26 ہوئے۔جہاز کے سفر کے دوران رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ہمیں ایسی جگہ لے جایا جا رہا ہے جہاں کھجوروں کے جھنڈ ہیں۔بعدہ ویسا ہی پایا۔میری ہر جگہ مخالفت ہوتی رہی مگر د ہیں پر میرے حق میں کھڑے ہو جانے والے بھی مل گئے۔خدا تعالٰی اس عاجز کو ہر جگہ غلبہ عطا کرتا رہا۔شهر عشار اور بصرہ کا تقریبا دو میل کا جنگ عظیم کے دوران بصرہ کو روانگی فاصلہ تھا۔دریائے دجلہ اور فرات کے کنارہ پر عشار یعنی عشرہ تھا اور اسی کنارہ پر ایک کارخانہ ڈبلیو ٹی کاڈ کیا رڈ تھا۔اس کے ساتھ ہی کچھ مکان بنے ہوئے تھے۔غالبا 14 نومبر ۱۹۸ء کو لڑائی بند ہو گئی تھی اور ۱۵ نومبر ۱۹۱۸ء کو ہمیں اس کارخانہ میں کام کرنے کے لئے بھیجا گیا جب مجھے وہاں رہتے ہوئے تین چار دن گزر گئے تو بعض آدمیوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ نماز پڑھنے کے لئے بیت میں کیوں نہیں آتے؟ نماز آپ میں پڑھ لیتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ میرا چونکہ ان لوگوں سے ابھی پورا تعارف نہ تھا نیز حضور اور قادیان سے دور تھا۔کوئی خونی رشتہ دار بھی وہاں نہ تھا لہذا طبیعت بہت اداس رہتی تھی اور بڑی خاموشی سے زندگی گزر رہی تھی۔اس کارخانہ میں تقریبا دو ہزار آدمی تھی جن میں سے اکثر ہندو، عیسائی اور سکھ تھے۔نو صد کے قریب مسلمان تھے۔ان میں سے صرف میں ہی اکیلا احمدی تھا۔دوسرے مسلمان لاہور ، امرتسر، فیروز پور جالندھرو گورداسپور وغیرہ کے تھے۔میں چپکے سے اس کوشش میں لگا رہا کہ کسی اور احمدی کا پتہ چل جائے لیکن کارخانہ میں کوئی اور احمدی نہ تھا۔اس لئے میں نے ان لوگوں کو اپنی علیحدہ نماز کے متعلق کچھ نہ بتایا۔ایک دن پھر انہوں نے یہی سوال کیا کہ آپ دوسروں کو تو مسئلے بتاتے ہیں نماز کی بھی تاکید کرتے ہیں اور قرآن پاک کی تلاوت بھی روزانہ کرتے ہیں۔رات کو اٹھ کر نفل بھی پڑھتے ہیں اور داڑھی بھی