میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 29 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 29

23 عمارت مینارة امسیح کی تکمیل ہوئی پھر دوسری عمارتیں محلہ جات باب الانوار ، دار الفضل ، دار البرکات ، دار الرحمت، دار الصحت، ریتی چھلہ کالج اور تار ٹیلی فون اور ہر شعبہ کی نظارتوں کی عمارتیں بنیں۔آپ کے دور خلافت ہی میں بیرونی ممالک میں احمدیہ مشن قائم ہوئے اور مرکز سے مبلغین کرام بھیجے گئے۔غیر ممالک میں سکول و کالج اور بیوت بنوائی گئیں۔ہر طرف اسلام کا چرچا ہوا اور اسلامی تعلیم کی اشاعت بخوبی جاری ہو گئی۔اللهم زد فزد حصول ملازمت کیلئے سہارن پورا مر تسر اور لاہور کا سفر اور نصرت الہی 1919ء میں ہمارا آپس میں بٹالہ کی زمین متصل ذیلی گھر بیرونی منڈی پر مقدمہ ہو گیا جو فریقین کے لئے سوائے نقصان کے فائدہ مند نہ ہوا اور اس کا ۱۹۱۸ ء میں فیصلہ ہوا۔والد صاحب چونکہ بوڑھے تھے اور میں بھی بیکار تھا اس لئے مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کی معرفت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ سے بھرتی ہونے کی اجازت لیکر گورداسپور جا کر بھرتی ہو گیا۔اس وقت ۱۹۱۴ء والی جنگ عظیم شروع تھی۔گورداسپور سے راتوں رات ہی میں مجھے سہارنپور بھیج دیا گیا۔وہاں مجھے سہارن پور کی ریلوے ورکشاپ میں ایک ماہ تک بڑائی کے لئے بھیجتے رہے۔انہی ایام میں میری مخالفت کا آغاز ہوا۔میرا دارو مدار تو دعا پر ہی تھا اور سوائے خدا تعالٰی کے کوئی سہارا نہ تھا اور نہ ہے۔لہذا اپنے علم کے مطابق جواب دیتا رہا۔میری نماز اور قرآن کریم کی پابندی کا میرے قرب میں رہنے والوں پر خاص اثر تھا۔اگر وہاں چار میری مخالفت کرتے تھے تو دو میرے حق میں ہو جاتے تھے۔آخر اسی دوران عید الاضحیہ کا ون آگیا۔بڑی مشکل سے شہر سہارنپور میں مولوی عبد العزیز صاحب کا مکان تلاش