میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 28 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 28

22 ہوئی۔میں نے بڑی گریہ و زاری سے دعا کی کہ "اے الہ العالمین" تیرا یہ بندہ نافع الناس ہے اور جماعت کا خلیفہ بھی ہے۔درس و تدریس کا عاشق و ظاہری طور پر بھی مریضوں کا علاج کرتا ہے۔اس وجود کی وفات ہمارے لئے نقصان دہ ہو گی اگر تیرا کوئی ایسا قانون ہے تو میری نصف زندگی مولوی صاحب کو دی جائے۔اگر ایسا کوئی قانون نہیں تو بنانا بھی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔میرے جیسا انسان زندہ رہا بھی تو کوئی فائدہ نہیں مگر حضرت مولوی صاحب کا زندہ رہنا عوام کے لئے اور جماعت احمدیہ کے لئے بہت نافع ہے۔بہت ہی گریہ و زاری سے لمبی دعا کی اور سجدہ گاہ تر ہوتی رہی۔دو اتنا لمبا سجدہ تھا کہ میرے والد صاحب گھر سے دوبارہ بیت میں آئے کہ پتہ کروں کہ ابھی تک گھر کیوں نہیں آیا۔میں اس وقت سنتوں کی ادائیگی سے فارغ ہوا ہی تھا۔میری حالت دیکھ کر والد صاحب بہت فکر مند ہوئے اور پوچھا کہ کیا کوئی تکلیف ہے؟ میں نے جواب دیا کہ ایک تکلیف تھی مگر وہ اب رفع ہو گئی ہے۔اسی رات کو میں نے یہ آیت کریمہ دیکھی خواب میں او كالذي مر على قرية و هي خاوية على عروشها قال انى يحى هذه الله بعد موتها فاماته الله مائة عام ثم بعثه مقال كم لبثت قال لبثت يوما او بعض يوم (سورة البقره آیت (۲۶۰) صبح جب میں بیدار ہوا تو مجھے تقسیم ہوئی ، معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کی زندگی اب قریب الاختام ہے مگر میرے دل میں از حد اطمینان ہوا کہ میری دعا مولا کریم کے دربار میں پہنچ گئی ہے جبھی یہ نظارہ مجھے دکھایا گیا ہے۔اس کے بعد چند ماہ ہی مولوی صاحب زندہ رہے اور ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء کو رحلت فرما گئے۔انا لله وانا اليه راجعون خلافت ثانیہ کا آغاز ۱۲ مارچ ۱۹۱۴ء بروز ہفتہ دن کے تین بجے خلیفہ ثانی کا انتخاب ہوا۔آپ کے دور خلافت میں سب سے پہلی