مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن

by Other Authors

Page 2 of 25

مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 2

صدر منتخب ہوئے۔رئیس الاحرار صفحه ۱۴۴ - مؤلفہ عزیز الرحمن جامعی لدھیانوی کوچه رحمان چاندنی چوک دہلی۔اشاعت مارچ ۱۹۶۱ء) چنیوٹ میں ملک اللہ دتہ اور ملک نذر محمد اس کے بانی تھے۔قیام پاکستان سے قبل یہ شہر چانکیہ سیاست کے علمبر دار اور پاکستان دشمن ہندوؤں اور احراریوں کا گڑھ تھا۔یہ بہت نازک زمانہ تھا۔کیونکہ جیسا کہ قائد اعظم نے بھی بار بار متنبہ کیا کہ کانگرس دوسری قوموں پر ہندو تہذیب ٹھونسنا اور ہندوراج قائم کرنے کا خوفناک منصو بہ باندھے ہوئے تھی۔(روز نامہ ملاپ لاہور ، ۷ ار جنوری ۱۹۳۹ء صفحہ (۲) اور اس کا نتیجہ بر صغیر کے مظلوم مسلمانوں کی مکمل تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ ہو سکتا تھا۔بد قسمتی یہ تھی کہ سب احراری لیڈر کانگرس کے زر خرید غلام اور ایجنٹ کی حیثیت سے اس ہندو منصوبہ کی تکمیل کے لئے دن رات کوشاں تھے۔چنانچہ کتاب "رئیس الاحرار “ کے صفحہ ۳۶ پر لکھا ہے: پنڈت موتی لعل نہرو، سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی سحر بیانی کے عاشق تھے۔انہی کے پروگرام کے مطابق شاہ صاحب کام کر رہے تھے۔۔۔۔پنڈت جی بار بار شاہ صاحب سے کہتے کہ شاہ صاحب کانگریس ستیہ گرہ کی کامیابی صرف آپ سے وابستہ ہے گاندھی جی اٹھ کر دروازے تک خود احرار رہنماؤں کو لینے آتے اور چلتے وقت خود ان رہنماؤں کو دروازے تک چھوڑنے آتے۔یہ امتیازی بات تھی جو زندگی میں گاندھی جی نے صرف احرار ر ہنماؤں کی عزت و تکریم میں کی۔خود عطاء اللہ شاہ بخاری نے اعتراف کیا کہ : د کانگرس کے چہرے کی سرخی ہماری قربانیوں اور ہمارے خون کا نتیجہ ہے“۔نیز قائداعظم پر بالواسطہ طور پر تنقید کرتے ہوئے یہاں تک ہرزہ سرائی کی 2