مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 1
عطیه از مصنف 60307 21/10/2001 فلسفہ چانکیہ اور اس کی جائے ولادت چندر گپت موریہ (وفات ۲۹۹ ق م) کے عہد میں شاطر سیاستدان اور ار تھ شاستر کے مصنف پنڈت چانکیہ کا نظریہ تھا کہ : " جو بادشاہ زیادہ قوت حاصل کرے اسے چاہئے کہ ہمسایہ بادشاہ پر حملہ کرنے میں دیر نہ کرے۔جو بادشاہ دیکھے کہ اس کی طاقت بڑھ رہی ہے اسے چاہئے کہ کسی جھجک کے بغیر میثاق صلح کو توڑ کر دوسرے پر حملہ کر دے۔جس بادشاہ کی سلطنت فاتح کی حدود سلطنت کے قریب واقع ہو وہ فاتح کادشمن ہوتا ہے“۔(رسالہ انڈین انٹی کو بری ۱۹۰۹ء صفحہ ۳۰۳ اوس ۱۹۱۹ء صفحہ ۵۹ بحوالہ ”تاریخ نظریہ پاکستان صفحه ۲۳، ناشر انجمن حمایت اسلام لاہور۔اشاعت جولائی ۱۹۷۰ء) پنڈت چانکیہ کی عوامی طاقت کار از ایسے لوگ تھے جو رومی مؤرخ جسٹین کی نظر میں چور ، لٹیرے اور راہزن تھے۔جمعین آئی سی جلد ۲ صفحہ ۱۵۵۹ ایج آف امپیریل یونٹی صفحہ ۵۷ بحوالہ ارض پاکستان کی تاریخ جلد ۲ صفحہ ۱۲۶ مؤلفه رشید اختر ندوی۔شائع کردہ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور (۱۹۹۸ء)۔جھنگ کے احراری مؤرخ جناب بلال زبیری نے اپنی کتاب ” تاریخ جھنگ“ (مطبوعہ ستمبر (۱۹۷ء) میں تسلیم کیا ہے کہ : چانکیہ چنیوٹ کا برہمن تھا“ اور: انگریز مؤرخین نے چانکیہ اور میکاولی میں موازنہ بھی کیا ہے“۔(صفحہ ۳۰۴) ہ بھی کیا پاکستان دشمنی کا گڑھ ۲۹ دسمبر ۱۹۲۹ء کو ہند و سیاسی پارٹی آل انڈیا نیشنل کانگرس کے اجلاس راوی کے دوران کانگرس کے اسٹیج پر مجلس احرار کا قیام ہوا اور عطاء اللہ بخاری اس کے پہلے 1