حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ

by Other Authors

Page 4 of 66

حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 4

کر آپ اپنی فطرت سعیدہ سے اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہی وہ منزل ہے جس کی مجھے تلاش تھی۔چنانچہ اپنی آنکھوں سے اس وجو دکو دیکھنے کے لئے پیدل جہلم سے قادیان روانہ ہوئے۔حضرت خلیفہ اسی الثانی نور اللہ مرقدہ نے اس واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا۔حضرت مولوی برہان الدین صاحب جو اہلِ حدیث میں سے تھے اور ان کے لیڈر تھے انہوں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر سنا شاید انہوں نے براہین کا اشتہار پڑھایا آریوں اور عیسائیوں کے خلاف کسی اخبار میں آپ کا مضمون دیکھا تو ان کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں خود انہیں جا کر دیکھ آؤں۔(چنانچہ آپ جہلم سے پا پیادہ قادیان روانہ ہو گئے لیکن کئی دن کے سفر کے بعد جب قادیان وارد ہوئے تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان دنوں متواتر چالیس دن عبادات اور دعاؤں میں گزارنے کے لئے الہام الہی تیری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی کی تکمیل میں ہوشیار پور گئے ہوئے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے جہلم واپس جانا گوارا نہ کیا اور شوق ملاقات کے باعث قادیان میں رہ کر انتظار کرنا بھی مناسب نہ سمجھا۔چنانچہ آپ قادیان سے ہوشیار پور روانہ ہو گئے۔) وہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ آپ سے ملاقات نہیں ہو سکتی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ساتھ والوں کو ہدایت دے دی تھی کہ کسی کو اندر نہیں آنے دینا اور شیخ حامد علی صاحب کو دروازہ پر بٹھایا ہوا کہ وہ نگرانی رکھیں اور کسی کو اندر نہ آنے دیں یہ وہاں پہنچے اور انہوں نے منتیں کیں کہ مجھے ملنے دومگر انہوں نے نہیں مانا۔آخر مولوی برہان الدین صاحب نے کہا کہ مجھے صرف چک اٹھا کر ایک دفعہ دیکھ لینے دواس سے زیادہ میں کچھ نہیں کروں گا۔لیکن حامد علی صاحب نے یہ بات بھی نہ مانی مگر اللہ تعالیٰ نے چونکہ انکی خواہش کو پورا کرنا تھا اس لیے اتفاق ایسا ہوا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود 66