حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 5
8 علیہ الصلوۃ والسلام کو کوئی ضرورت پیش آئی اور آپ نے فرمایا میاں حامد علی تم فلاں چیز لے آؤ وہ اسی طرف چلے گئے اور انہیں موقع میسر آ گیا یہ چوری چوری گئے اور انہوں نے چک اٹھا کر حضرت صاحب کو دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس وقت کچھ لکھ رہے تھے اور جلدی جلدی کمرہ میں ٹہل رہے تھے یہ عام انسان کی نظر میں بہت معمولی بات ہے مگر صاحب عرفان کی نگاہ میں یہ بڑی بات تھی انہوں نے آپ کو دیکھا اور واپس آگئے لوگوں نے آپ سے پوچھا مولوی صاحب آپ نے کیا دیکھا انہوں نے کہا اس نے بہت دور جانا ہے یہ کمرے میں بھی تیز تیز چل رہا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بڑا کام کرنا ہے۔“ الفضل 5 جولائی 1957 ء ص5) آپ کے صاحبزادے حضرت مولوی عبدالمغنی صاحب مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تا مرد سخن نه گفته باشد عیب و ہنرش نهفته باشد والد صاحب نے کہا کہ آخر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان سے تبادلہ خیالات کیا جائے اور انکی علمیت اور قابلیت کا اندازہ لگایا جائے اس کے علاوہ میں جہلم سے چل کر آیا ہوں اگر لوگ دریافت کریں گے تو کیا جواب دونگا۔آمدم برسر مطلب ! والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ تبادلہ خیالات کے لئے اجازت حاصل ہونے کے بعد پہلے دن میں نے معمولی سوال و جواب کئے اور بعض احادیث پیش کیں۔حدیثوں کے متعلق میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب قرآن شریف کی آیات پڑھ کر کسی حدیث کو صحیح قرار دے دیتے یا ضعیف۔یہ انوکھا استدلال دیکھ کر میں حیران ہوا کہ کسی حدیث کو صحیح یا مرسل وغیرہ قرار دینا آسان کام نہیں بلکہ بہت مشکل کام ہے۔محدثین کا طریق تو یہ ہے کہ راویوں کو دیکھا جائے۔ان کے حالات معلوم کئے جائیں۔یہ کیا جائے ، وہ کیا جائے۔مگر یہ