حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ

by Other Authors

Page 48 of 66

حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 48

51 ہمشیرہ ہیں۔ابا جی کے پاس دعا کی غرض سے آئیں اور کہنے لگیں مولوی صاحب میرے بچوں نے امتحان دیا ہے دعا کریں اللہ تعالیٰ امتحان میں کامیابی عطا کرے اور نیک بنائے۔ان کے جانے کے بعد ایک بزرگ تشریف لائے اباجی نے انہیں بھی حفیظ بیگم کے بچوں کے امتحان میں کامیاب ہونے اور نیک ہونے کے لئے دعا کا کہا۔پھر فرمایا جب دو چھریاں مل کر تیز کی جاتی ہیں تو جلدی تیز ہوتی ہیں۔اسی طرح جب دول کر دعا کریں تو اللہ تعالیٰ جلدی سن لیتا ہے۔ایمان افروز واقعه ایک واقعہ خود بیان کرتے ہیں کہ یہ واقعہ رمضان المبارک کا ہے۔روزہ رکھا ہوا تھا۔سخت بھوک اور پیاس محسوس ہورہی تھی۔گرمی بھی زوروں پر تھی۔اس حالت میں نیند آگئی۔تو خواب میں ایک بڑا سا آم کسی نے مجھے دیا جسے میں نے خوب مزے سے کھایا۔کھا چکا تو یکدم جاگ گیا۔منہ میں آم کا ذائقہ نہایت شیریں تھا۔طبیعت خوش اور خوب سیر تھی بھوک پیاس کا نام بھی نہ تھا۔یہاں تک کہ ساتھ والوں نے بھی مجھ سے آم کی خوشبو محسوس کی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ تین دن تک اس آم کی خوشبو میرے منہ سے آتی رہی اور اپنے دوستوں کو اپنے منہ کے پاس لے جا کر بتاتا تو وہ بھی خوشبو پاتے تھے۔نماز کسوف و خسوف آپ کی نواسی بیان کرتی ہیں کہ واقعات تو بہت ہیں مگر ایک واقعہ جو نہیں بھولتا کہ جب چاند گرہن ہوا۔رات کے آٹھ نو بجے تھے۔میں نے کہا نانا جان نماز کسوف و خسوف چاند گرہن میں پڑھتے ہیں اور زور لگا کر با جماعت کے لئے انہیں راضی کیا ان کی طبیعت کچھ خراب تھی۔نانا