حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ

by Other Authors

Page 46 of 66

حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 46

49 مجھے میٹھی روٹیاں بھی پکا کر دیں کہ لالہ جی کو دینا۔جب میں خادم کے ہمراہ گاؤں لالہ جی کے پاس پہنچا انہیں میٹھی روٹیاں دیں اور کہا کہ والدہ صاحبہ نے مجھے بھیجا ہے کہ ابھی تک ہمیں دانے نہیں پہنچے میں دانے لینے آیا ہوں۔لالہ جی نے روٹیاں تو رکھ لیں اور مجھے کہا تمہارا مذہب اور ہے تم جا کر اپنے قادیان والے مرزا سے دانے لو، دانے نہیں ملیں گے چلے جاؤ۔میں اسی وقت خادم کے ہمراہ بہت اداس اور پریشان لوٹا۔ان دنوں گاؤں سے باہر آنے کے لئے لوگ گھوڑیوں پر آتے جاتے تھے گھوڑی کا تو کوئی انتظام نہ تھا میں خادم کے ہمراہ پیدل ہی چل پڑا راستے میں روتا آیا چلتے چلتے پاؤں سوجھ گئے بہت تھک کر ہم بیت الحمد جہلم پہنچے۔میں تو بیت الحمد میں بیٹھ گیا اور خادم نے بیت الحمد کے ساتھ کھلنے والا ہمارے گھر کا دروازہ کھول کر والدہ صاحبہ کو خبر دی۔ہم آگئے ہیں۔عبدل بیت الحمد میں بیٹھا ہے ( مجھے بچپن میں سب عبدل کہتے تھے ) والدہ صاحبہ نے اندر بلایا۔میں نے بتایا لالہ جی نے روٹیاں رکھ لی ہیں اور کہا ہے تمہارا مذہب اور ہے اپنے قادیان والے مرزا سے جا کر دانے لو۔والدہ صاحبہ نے مجھے تسلی دی کہا کوئی بات نہیں دانے ہمیں مل جائیں گے۔دوسرے دن صبح سویرے بوریاں والی گاؤں سے نائی آیا اور اس نے پیغام دیا رات اچانک بڑے مولوی صاحب (لالہ جی ) وفات پاگئے ہیں والدہ صاحبہ اسی وقت مجھے اور خادم کو ہمراہ لے کر گاؤں بوریاں والی افسوس کے لئے پہنچیں۔ہمارے جانے کے بعد لالہ جی کو دفنایا گیا دوسرے دن پٹواری نے آکر کہا اپنے دانے لے جائیں۔جب ہم گھر آئے تو پیچھے اونٹوں پر لاد کر ہمارے حصے کے دانے بھی مزارع لے آئے۔پھر تا زندگی دانے باقاعدگی سے آتے رہے۔