حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ

by Other Authors

Page 44 of 66

حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 44

47 گڑ کی پکا کر ساتھ لیں ماں بیٹا قادیان پہنچے۔بیت المبارک میں نماز عصر کا وقت تھا والدہ برقعہ اوڑھے باہر کھڑی تھیں۔میں اندر گیا تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام چند رفقاء کے ساتھ تشریف فرما تھے۔میں نے کہا میری والدہ باہر کھڑی ہیں۔وہ بہت پردہ کرتی ہیں اور ہم اپنے والد صاحب کو ڈھونڈنے آئے ہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا آپ کی بغل میں کیا ہے؟ میں نے کہا کہ یہ میٹھی روٹیاں ہیں والد صاحب کے لئے ، تو فرمایا ہم بھی کھالیں؟ میں نے کہا جی ، تو اس پر آپ نے مسکراتے ہوئے رو مال کھولا تھوڑ اٹکڑا تو ڑ کر اپنے منہ میں ڈالا اور ساتھ والوں کو بھی دیا۔میں سخت گھبرایا ہوا تھا۔پھر رومال باندھ کر واپس دیا اور فرمایا والدہ کوگھر ( حضرت اماں جان کے پاس ) اندر لے جاؤ۔یہاں بھی بہت پردہ ہے۔والد بھی مل جائیں گے۔یہ واقعہ سناتے ہوئے نانا جان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور فرماتے تھے کہ اتنی سمجھ ہی نہیں تھی کہ کہتا حضور آپ سب روٹیاں رکھ لیں۔اساتذہ اور تعلیم آپ کے استادوں میں دو کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ایک حضرت ماریہ المسیح الاول جن سے آپ نے ترجمہ کے ساتھ قرآن مجید کے کچھ سپارے پڑھے۔دوسرے حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی جن کے ساتھ آپ گا ؤں گا ؤں دعوت الی اللہ کے لئے جاتے۔حضرت مولوی عبد المغنی صاحب کہتے ہیں کہ کبھی بھی کسی گاؤں جاتے تو حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کسی بھی گاؤں والے سے کھانا وغیرہ کیلئے نہ کہتے۔ہم شاگر دحیران ہوتے تھے کہ کیسے خود بخو دلوگوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ تھکے ہوئے ہیں۔آپ بیت الذکر میں تشریف فرما ہو جاتے ،مگر ہم شا گردگاؤں میں ضرور پھرتے تھے۔آپ نے قادیان میں میٹرک کے بعد مولوی