مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 632

مسیحی انفاس — Page 93

یہودی لوگ خدا تعالیٰ کو جسمانی اور مجستم قرار دے کر عالم جسمانی کی طرح اور اس کا ایک جزو سمجھتے ہیں۔اور ان کی نظر ناقص میں یہ سمایا ہوا ہے کہ بہت سی باتیں کہ جو مخلوق پر جائز ہیں وہ خدا پر بھی جائز ہیں۔اور اس کو من کل الوجوہ منزہ خیال نہیں کرتے اور ان کی توریت میں جو محرف اور مبدل ہے خدائے تعالیٰ کی نسبت کئی طور کی بے ادبیاں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ پیدائش کے ۳۲ باب میں لکھا ہے کہ خدائے تعالیٰ یعقوب سے تمام رات صبح تک کشتی لڑا گیا اور اس پر غالب نہ ہوا۔اسی طرح بر خلاف اس اصول کے کہ خدائے تعالیٰ ہر یک مافی العالم کا رب ہے۔بعض مردوں کو انہوں نے خدا کے بیٹے قرار دے رکھا ہے۔اور کسی جگہ عورتوں کو خدا کی بیٹیاں لکھا گیا ہے اور کسی جگہ بائبل میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ تم سب ہی خدا ہو۔اور سچ تو یہ ہے کہ عیسائیوں نے بھی انہیں تعلیمیوں سے مخلوق پرستی کا سبق سیکھا ہے کیونکہ جب عیسائیوں نے معلوم کیا کہ بائبل کی تعلیم بہت سے لوگوں کو خدا کے بیٹے اور خدا کی بیٹیاں بلکہ خدا ہی بناتی ہے۔تو انہوں نے کہا کہ آو ہم بھی اپنے ابن مریم کو انہیں میں داخل کریں تا وہ دوسرے بیٹوں سے کم نہ رہ جائے۔اسی جہت سے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ عیسائیوں نے ابن مریم کو ابن اللہ بنا کر کوئی نئی بات نہیں نکالی بلکہ پہلے بے ایمانوں اور مشرکوں کے قدم پر قدم مشرکوں کی پس وہ لوگ خدائے تعالیٰ کو جسمانی اور جسم قرار مارا ہے۔دینے میں اور اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور رحمیت وغیرہ صفات کے معطل جاننے میں اور ان صفتوں میں دوسری چیزوں کو شریک گردانے میں اکثر مشرکین کے پیشوا اور سابقین تولین میں سے ہیں۔براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلدا صفحه ۴۶۴ تا ۴۶۶ - بقیه حاشیه ۱۱