مسیحی انفاس — Page 75
۷۵ ، من خرافات، وتنضنضون نضنضة الثعبان وما كنتم منتهين۔وتميسون خرافات بکنے کے وقت تمہیں کیوں شرم نہیں آتی اور اثر رہاکی طرح زبان ہلاتے ہو اور باز نہیں آتے اور تم ہمارے غصہ كالسكارى وجدانا ووجدا، ولا ترون غورا ولا نجدا، ولا تخافون هوة اور غم کے ایسے چلتے ہو جیسا کہ ایک مست چلتا ہے اور نشیب و فراز کو کچھ بھی نہیں دیکھتے اور گڑھے میں گرنے سے السافلين۔اجعلتم قرة عيونكم ومسرة قلوبكم في الاكاذيب، وطبتم نفسا بإلغاء نہیں ڈرتے۔کیا جھوٹ بولنے میں ہی تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی خوشی ہے اور تم اس بات پر خوش ہو گئے طلب الحق والقاء حبل الله القريب، وكنتم قوما عادين۔ويل لكم انكم سقطتم کہ حق کو چھوڑ دو اور خدا کے رسہ کو جو بہت نزدیک ہے پھینک دو۔اور تم پر افسوس کہ تم ایک مزبلہ پر گرے اور باغ على دمنة واعرضتم عن روضة ، بل تركتم شجراء وآثرتم مرداء، ونزلتم عن متن سے کنارہ کیا بلکہ تم نے درختوں والی زمین کو چھوڑا اور ویران بے درخت زمین کو اختیار کیا اور سواری سے تم اتر بیٹھے الركوبة، واخترتم طريق الصعوبة، وقفوتم اثر المبطلين۔اور خرابی اور سختی کا راہ اختیار کر لیا اور باطل پرستوں کے پیچھے لگ گئے۔وان كنتم تظنون ان القرآن صدق قولكم واعان ، وقال في شأن عيسى روح منه ، اور اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ قرآن تمہارے قول کی تصدیق کرتا اور تمہیں مدد دیتا ہے اور عیسی کے بارے میں کہا وقبل انه خرج من لدنه ، فما هذا الاجهل صريح ووهم قبيح وخطأ مبين۔ثم ان ہے کہ وہ اس سے روح ہے اور اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ وہ اس سے نکلا ہے تو یہ خیال تمہار ا صریح جہل اور مکروہ و ہم فرض ان قوله تعالى روح منه يريد شأن ابن مريم ويجعله ابن الله واعلى واكرم ، اور کھلا کھلا خطا ہے۔پھر اگر ہم فرض کر لیں کہ روح نیند کا لفظ حضرت عیسی کی شان بڑہاتا ہے اور اس کو ابن اللہ اور فيجب ان يكون مقام آدم ارفع منا واعظم ، ويكون ادم اول ابناء رب العالمين۔فان روح سند سے تو بلند تر مھراتا ہے سو اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت آدم کا مقام حضرت عیسی سے زیادہ بلند ہو اور پہلا بیٹا خدا تعالی کا حضرت آدم کا مقام زیادہ بلند ثابت ہوتا في شأن آدم بيان اكبر من شأن عيسى فتفكر في آية : فقعوا له ساجدين، وتدبر ہے۔حضرت آدم ہی ہو۔کیونکہ حضرت آدم کی شان میں حضرت عیسی کی نسبت زیادہ تعریف بیان کی گئی ہے سو کاولى النهى، وفكر في لفظ خلقت بيدى ولفظ سويته ونفخت فيه من مهمندوں کی طرح فقعوا له ساجدین میں غور کر اور پھر اس لفظ میں غور کر جو تعلقت بیدی روحي، وألفاظ اخرى ، ليظهر عليك جلالة آدم وشأنه الأعلى۔فإن منطوق الآية اور سويته اور نفخت فيه من روحی ہے اور دوسرے لفظوں کو بھی