مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 632

مسیحی انفاس — Page 74

ولا يتركون الصراط كعمين۔واي فرق في الروح النازل على عيسى والروح الذي اور راہ کو اندھوں کی طرح نہیں چھوڑتے۔اور کونسا فرق ان دو روحوں میں ہے جو حضرت عیسی اعطى لموسی کلیم ربّ العلمين؟ ألا تتفكرون يا معشر الظالمين ، وتسقطون على اور حضرت موسی پر نازل ہوئیں۔اے ظالمو! کیا تم کچھ بھی فکر نہیں کرتے۔اراجيف الكاذبين۔ألا تقرأون في التوراة الاصحاح الحادي عشر ما قيل انه قول اور جھوٹوں کی خبروں پر گرے جاتے ہو کیا تم تو رات کے گیارہویں باب میں وہ کلام نہیں اصدق القائلين وهو ان الرب قال لموسى فانزل وانا اتكلم معك، وآخذ من پڑھتے جس میں کہا گیا ہے کہ اس خدا کا کلام ہے کہ جو اپنی باتوں میں سب سے بڑھ کر سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ رب نے الروح الذي عليك ، وأضع عليهم أي على اكابر امته وهم كانوا سبعين۔موسی سے کہا کہ میں اتروں گا اور تجھ سے کلام کروں گا اور اس روح میں سے لوں گا جو تجھ پر اور ان پر ڈالوں گا یعنی بنی وكذلك نزل هذا الروح على جد عیسی مرشده داود و یحى وغيرهما من النبيين۔اسرائیل کے اکابر پر جو ستر آدمی تھے۔اور اسی طرح روح حضرت عیسائی کے دادے اور اس کے مرشد یکی پر بھی نازل ولا حاجة الى ان نطول الكلام ونضيع الاوقات ونزيد الخصام، فإن الخواص من ہوئی اور ایسا ہی دوسرے نبیوں پر۔اور کچھ ضرورت نہیں کہ ہم اس کلام کو طول دیں اور وقت کو ضائع کریں اور النصارى والعوام يعرفونه وما كانوا منكرين۔فلم لا تشتف ايها الجهول والغبي جھگڑے کو بڑھاویں کیونکہ نصاری ان تمام باتوں کو جانتے ہیں اور منکر نہیں ہیں۔پس اے نادان کیوں اپنی نظر کو پہلی المعذول في كتب الأولين، ولم لا تقبل النصيحة وتعادي العقيدة الصحيحة، ولا کتابوں میں عمیق حد تک نہیں پہنچاتا اور کیوں نصیحت کو قبول نہیں کرتا اور صحیح عقیدے کا دشمن ہو رہا ہے اور ہدایت کی تكون من المسترشدين۔نعطيك شهدا ينقع وتعدو الى سم منقع ، اتريد ان تكون راہ پر نہیں آتا۔ہم تجھے ایک شہر پیاس بجھانے والا دیتے ہیں اور تو ایک تیز زہر کی طرف دوڑتا ہے تا اس کو پی لے۔کیا من الهالكين۔تیرا مرنے کا ارادہ ہے۔واما ما ظننت ان الله يسمى المسيح في القرآن روحا من الله الرحمن ، ولا يسميه اور یہ جو تو نے خیال کیا کہ اللہ تعالی قرآن میں مسیح کا نام روح میں اللہ رکھتا ہے اور اس کا نام بشر نہیں رکھتا بشرا ومن نوع الانسان فاعجبني انكم لم لا تأنفون من البهتان ، ولم لا تستحيون اور من جملہ نوع انسان اس کو قرار نہیں دیتا سو مجھے تعجب ہے کہ تم لوگ کیوں بہتان سے کراہت نہیں کرتے اور