مسیحی انفاس — Page 58
۵۸ ٤٢ پادری عیسی کے خدا ہونے کی دلیل بیان کرتے ہیں کہ وہ مردے زندہ کرتا تھا حلانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَمُسِكُ التي قضى عَلَيْهَا المَوت - اب خدا تعالیٰ کے کلام میں تناقض نہیں کہ ایک آیت میں کہے مردے دوبارہ دنیا میں نہیں آتے اور دوسری میرے دوبارہ دنیا میں میں کہے کہ مردہ زندہ ہوتے ہیں۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ تعالیٰ نے نہیں آتے۔فرمایا کہ اس کے ہاتھ پر مردے زندہ ہوتے ہیں لما يحييكم اور سب کو کم میں معلوم ہے کہ اس سے مراد روحانی مردوں کا زندہ ہوتا ہے۔بدر۔جلدے نمبر ۱۹ ، ۲۰ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۸ صفحه ۵ نیز دیکھیں۔الحکم۔جلد ۹ نمبر ۴۰ مور خدے انومبر ۱۹۰۵ صفحه الحکم- جلد ۱۲ نمبر ۲۶ مورخه ۱۰ اپریل ۱۹۰۸ صفحه ۲ ان ساری باتوں کے علاوہ ایک اور بات قابل غور ہے کہ وہ کیا نشانات تھے جن سے حقیقا مسیح کی خدائی ثابت ہوتی۔کیا معجزات ؟ اول تو سرے سے ان معجزات کا کوئی ثبوت ہی نہیں کیونکہ انجیل نویسوں کی نبوت ہی کا کوئی ثبوت نہیں۔اگر ہم اس سوال کو در میان نہ بھی لائیں اور اس بات کا لحاظ نہ کریں کہ انہوں نے ایک محقق اور چشم دید حالات لکھنے والے کی حیثیت سے نہیں لکھتے۔تب بھی ان معجزات میں کوئی رونق اور قوت نہیں پائی جاتی جبکہ ایک تالاب ہی کا قصہ مسیح کے سارے معجزات کی رونق کو دور کر دیتا ہے اور مقابلتا جب ہم انبیاء سابقین کے معجزات کو دیکھتے ہیں تو وہ کسی حالت میں مسیح" کے منجزبات سے کم نہیں بلکہ بڑھ کر ہیں۔کیونکہ بائبل کے مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ پہلے نبیوں سے مردوں کا زندہ ہونا ثابت ہے۔بلکہ بعض کی ہڈیوں سے مردوں کا لگ کر بھی زندہ ہونا ثابت ہے حالانکہ مسیح کے خیالی معجزات میں ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہے۔مسیح کی لاش نے کوئی مردہ زندہ نہیں کیا پھر بتاؤ کہ مسیح کو کونسی چیز خدا بنا سکتی کیا پیش گوئیاں؟ ان کی حقیقت میں نے پہلے بتادی ہے کہ مسیح کی پیش گوئیاں پیش گوئی کا رنگ ہی نہیں رکھتی ہیں جو باتی پیش گوئی کے رنگ میں مندرج ہیں وہ ایسی ہیں کہ ایک معمولی آدمی بھی ان سے بہت باتیں کہہ سکتا ہے اور قیافہ شناس مد تر کی پیش گوئیاں ان سے بدرجہا بڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔میں علی الاعلان کہتا ہوں کہ اگر اس وقت مسیح ہوتے تو