مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 632

مسیحی انفاس — Page 59

۵۹ جس قدر عظیم الشان تائیدی نشان پیش گوئیوں کے رنگ میں اب خدا نے میرے ہاتھ پر صادر کئے ہیں وہ ان کو دیکھ کر شرمندہ ہو جاتے اور اپنی پیش گوئیوں کا کہ زلزلے آئیں گے۔مری اور قحط پڑیں گے یا مرغ بانگ دے گا کبھی مارے ندامت کے نام نہ لیتے۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۱۳۲ وہ خدا تھا تو کیوں اس نے بالکل نرالی طرز کے معجزات نہ دکھائے۔میں نے تحقیق کر لیا ہے کہ ان کے مجربات کی حقیقت سلب امراض سے کچھ بھی بڑھی ہوئی نہ تھی۔جس میں مسیح کے معجزات کی آجکل یورپ کے مسمریزم کرنے والے اور ہندو اور دوسرے لوگ بھی مشاق ہیں اور حقیقت۔خیالات ایسے بے ہودہ اور سطحی تھے کہ صرع کے مریض کو کہتا ہے کہ اس میں جن گھسا ہوا ہے۔حالانکہ اگر صرع کے مریض کو کونین۔پچھلہ۔فولاد دیں اور اندر دماغ میں رسولی نہ ہو تو وہ اچھا ہو جاتا ہے۔بھلا جن کو مرگی سے کیا تعلق۔چونکہ یہودیوں کے خیالات ایسے ہو گئے تھے۔ان کی تقلید پر اس نے بھی ایسا ہی کہہ دیا۔اور یا یہ کہ جیسے آجکل جادو ٹونے کرنے والے کرتے ہیں کہ بعض ادویات کی سیاہی سے تعویذ لکھ کر علاج کرتے ہیں اور بیماری کو جن بتاتے ہیں ویسے ہی اس نے کہہ دیا ہو۔مجھے افسوس ہے کہ مسیح کے معجزات کو مسلمانوں نے بھی غور سے نہیں دیکھا اور عیسائیوں کی دیکھا دیکھی اور ان سے سن سن کر ان کے معنے غلط کر لئے ہیں۔مثلاً اکمہ کا لفظ ہے۔جس کے معنے شب کور کے ہیں۔اور اب معنے یہ کر لئے جاتے ہیں که مادر زاد اندھوں کو شفا دیا کرتے تھے۔حالانکہ یہ کلمہ وہ مرض ہے کہ جس کا علاج بکرے کی کلیجی کھانا بھی ہے اور اس سے بھی یہ اچھتے ہو جاتے ہیں۔لملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۱۳۹ زیادہ تر افسوس ان عیسائیوں پر ہے جو بعض خوارق اسی کے مشابہ مگر ان سے اونی ۴۵ حضرت مسیح میں سن سنا کر ان کی الوہیت کی دلیل گھر بیٹھے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ حضرت خوارق سے انسان خدا مسیح کا مردوں کا زندہ کرنا اور مفلوجوں اور مجزوموں کا اچھا کرنا اپنے اقتدار سے تھا کسی دعا میں بن سکتا۔سے نہیں تھا۔اور یہ دلیل اس بات پر ہے کہ وہ حقیقی طور پر ابن اللہ بلکہ خدا تھا۔لیکن