مسیحی انفاس — Page 57
۵۷ الى الجاهلية الأولى۔اور پہلی جاہلیت کی طرف مائل ہو گیا۔نور الحق ، روحانی خزائن مجلد ۸ ص ۱۹الی (۱۲) مُردوں کا زندہ ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بھی قرآن شریف میں مذکور ہے۔مگر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مردے زندہ کرنے کو روحانی رنگ مردے زندہ کرنا دلیل میں مانتے ہیں نہ کہ جسمانی رنگ میں۔اور اسی طرح حضرت عیسی کا مردے زندہ کرنا الوہیت میں۔بھی روحانی رنگ میں مانتے ہیں نہ کہ جسمانی طور پر۔اور یہ امر کوئی حضرت عیسی تک ہی محدود نہیں بلکہ بائیل میں لکھا ہے کہ ایلیا نبی نے بھی بعض مردے زندہ کئے تھے بلکہ وہ آنحضرت کا مردے زندہ کرنا ثابت ہے۔حضرت عیسی سے اس کام میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔اگر فرض محال کے طور پر ہم مان بھی لیں کہ بائیل میں حضرت عیسی کا حقیقی مردوں کو زندہ کرنے کا ذکر ہے تو پھر ساتھ ہی ایلیا نبی کو بھی خدا ماننا پڑے گا۔اس میں حضرت عیسی کی خدائی کی خصوصیت ہی کیا ہوئی۔اور ما بہ الامتیاز کیا ہوا۔بلکہ یسعیاہ نبی کے متعلق تو یہاں تک بھی لکھا ہے کہ مردے ان کے جسم کو چھو جانے پر ہی زندہ ہو جایا کرتے تھے۔ان باتوں سے جو کہ اس بائیل میں درج ہیں صاف شہادت ملتی ہے کہ مردوں کا زندہ کرنا حضرت مسیح کی خدائی کے واسطے کوئی دلیل نہیں ہو سکتا اور اگر اس کو دلیل مانا جاوے تو کیوں ان دوسرے لوگوں کو بھی جنہوں نے حضرت مسیح سے بھی بڑھ کر یہ کام کیا خدا نہ مانا جاوے اور خدائی کا خاصہ صرف حضرت مسیح کی ذات تک ہی محدود و مخصوص رکھا جاوے۔بلکہ ہمارے خیال میں تو حضرت موسیٰ کا سونے سے سانپ بنانے کا معجزہ مردے زندہ کرنے سے بھی حضرت موسیاہ کا مردے زندہ کرنا ثابت کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ مردہ کو زندہ سے ایک تشبیہ اور لگاؤ بھی ہے کیونکہ وہی چیز ابھی زندہ ہے۔تھی اور مردے میں زندہ ہونے کی ایک استعداد خیال کی جاسکتی ہے۔مگر سانپ کو سونٹے سے کوئی بھی نسبت اور تعلق نہیں ہے۔وہ ایک نبات کی قسم کی چیز اور وہ سانپ۔تو یہ ہونٹے کا سانپ بن جانا تو مردوں کے زندہ ہو جانے سے نہایت ہی عجیب بات ہے۔لہذا حضرت موسیٰ کو بڑا خدا ملنا چاہئے۔مگر حقیقی اور اصلی بات یہ ہے کہ ہم حقیقی مردوں کی زندگی کے قائل نہیں ہیں۔ملفوظات۔جلد ۱۰ صفحه ۲۱۵ ۲۱۶