مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 576 of 632

مسیحی انفاس — Page 576

اور مسیح کی طبیعت اور مسیح کے درجہ سے حصہ لیں اور اس کے نام پر مامور ہو کر آویں۔عیسائی تو نہیں کہہ سکتے کہ ہم مسیح کے بھائی ہیں۔اور کچھ شک نہیں کہ محدث نبی کا چھوٹا بھائی ہوتا ہے اور تمام انبیا علاقی بھائی کہلاتے ہیں۔اور یہ نہایت لطیف اشارہ ہے جو مسیح نے ان کا آنا اپنا آنا قرار دیا ہے۔اور یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ یہ آنا اس عاجز کا نسبتی طور پر جلالی آنا بھی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے توحید کی اشاعت کے لئے یہ بڑی بڑی کامیابیوں کی تمہید ہے۔اور جلالی آنے سے مراد اگر طریق سیاست رکھا جاوے تو یہ درست نہیں۔یہ بات انصاف سے بعید ہے کہ کوئی شخص غافلوں کے جگانے کے لئے مامور ہو کر آوے اور آتے ہی زدو کوب اور قتل اور منفک دماء سے کام لیوے جب تک پورے طور سے اتمام حجت نہ ہو خدائے تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتا۔غرض مسیح کا جلالی طور پر آنا جن معنوں سے عیسائی بیان کرتے ہیں وہ اس دنیا سے متعلق نہیں۔اس دنیا میں جو مسیح کے آنے کا وعدہ ہے اس وعدے کو ایسے جلالی طور سے کچھ علاقہ نہیں۔عیسائیوں نے بات کو کہیں کا کہیں ملا دیا ہے اور حق الامر کو اپنے پر مشتبہ کر دیا ہے۔چنانچہ متی کی آیات مذکورہ بالا تو صاف بیان کر رہی ہیں کہ یہ جلالی طور کا آنا اس وقت ہو گا کہ جب حشر اجساد کے بعد ہریک کا حساب ہو گا کیونکہ بجز حشر اجساد کامل طور پر شریروں اور راست بازوں کی جماعتیں جو فوت ہو چکی ہیں کیونکر ایک جگہ اکٹھی ہو سکتی ہیں۔لیکن پر خلاف اس مضمون کے متی کے پچیس (۲۵) بلب آیات مذکورہ بلا سے ظاہر ہوتا ہے متی کے چوبیسویں باب سے اسی دنیا میں مسیح کا آنا بھی سمجھا جاتا ہے اور دونوں قسم کے بیانات میں تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ آخرت میں جو حشر اجساد کے بعد آئے گاوہ خود مسیح ہے لیکن دنیا میں مسیح کے نام پر آنے والا قبل مسیح ہے جو اس کا چھوٹا بھائی اور اسی کے قول کے مطابق اس کے وجود میں داخل ہے دنیا میں آنے کی نسبت مسیح" نے صاف کہ دیا کہ پھر مجھے نہیں دیکھو گے پس وہ کیونکر دنیا میں آسکتا ہے حالانکہ وہ خود کہہ گیا کہ پھر مجھے نہیں دیکھو گے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا کے قبول کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اسی وقت قبول کر لیوے۔دنیا ہمیشہ آہستہ آہستہ مانتی ہے۔ان لوگوں کا ہونا بھی تو ضروری ہے کہ جو ایمان نہیں لائیں گے مگر مسیح کے دم کی ہوا سے مریں گے۔دم کی ہوا سے مرنا حجت قاطعہ سے مرنا ہے۔انجیلوں میں بھی تو لکھا ہے کہ مسیح کے ۵۷۶