مسیحی انفاس — Page 513
۵۱۳ کے وہ طیور بھی آخر مٹی کی مٹی ہی تھے بلکہ حضرت موسیٰ کا سوٹا تو چونکہ مقابلہ میں آگیا تھا اور مقابلہ میں غالب ثابت ہوا تھا اس واسطے حضرت عیسی کے طور سے بہت بڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ طیور تو نہ کسی مقابلے میں آئے اور نہ ان کا غلبہ ثابت ہوا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۶ مورخه ۲ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۴ یہ بات اس جگہ یا درکھنے کے لائق ہے کہ اس قسم کے اقتداری خوارق گو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتے ہیں مگر پھر بھی خدا تعالیٰ کے ان خاص افعال سے جو بلا توسط ارادہ غیری ظہور میں آتے ہیں کسی طور سے برابری نہیں کر سکتے اور نہ برابر ہونا ان کا مناسب ہے اسی وجہ سے جب کوئی نبی یا ولی اقتداری طور پر بغیر توسط کسی دعا کے کوئی ایسا امر خالق عادت دکھلاوے جو انسان کو کسی حیلہ اور تدبیر اور علاج سے اس کی قوت نہیں دی گئی تو نبی ه فعل خدا تعالیٰ کے ان افعال سے کم رتبہ پر رہے گا جو خود خدا تعالیٰ علانیہ اور بالجہر اپنی قوتِ کاملہ سے ظہور میں لاتا ہے یعنی ایسا اقتداری منجزه به نسبت دوسرے الہی کاموں گے جو بلاواسطہ اللہ جل شانہ سے ظہور میں آتے ہیں ضرور کچھ نقص اور کمزوری اپنے اندر موجود رکھتا ہو گا تا سرسری نگاہ والوں کی نظر میں تشابہ فی الخلق واقع نہ ہو۔اسی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا عصا باوجود اس کے کہ کئی دفعہ سانپ بنالیکن آخر عصا کا عصا ہی رہا۔اور حضرت مسیح کی چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھے۔اور کہیں خدا تعالٰی نے یہ نہ فرمایا کہ وہ زندہ بھی ہو گئیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداری خوارق میں چونکہ طاقت الہی سب سے زیادہ بھری ہوئی تھی کیونکہ وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تجلیات الہیہ کے لئے اتم و اعلیٰ وارفع و اکمل نمونہ تھا اس لئے ہماری نظریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداری خوارق کو کسی درجہ بشریت پر مقرر کرنے سے قاصر ہیں مگر تا ہم ہمارا اس پر ایمان ہے کہ اس جگہ بھی اللہ جل شانہ اور اس کے رسول کریم کے فعل میں مخفی طور پر کچھ فرق ضرور ہو گا۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۶۷، ۶۸ جن لوگوں نے منقولی معجزات کو جو تصرف عقل سے بالا تر ہیں مشاہدہ کیا ہے ان کے