مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 512 of 632

مسیحی انفاس — Page 512

کا اذن دے رکھا تھا یہ خدا تعالیٰ پر افترا ہے کلام الہی میں تناقض نہیں خدا تعالیٰ کسی کو ایسے ازن نہیں دیا کرتا۔اللہ تعالیٰ نے سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مکھی بنانے کا بھی اؤن نہ دیا۔پھر مریم کے بیٹے کو یہ اذن کیونکر حاصل ہوا۔خدا تعالیٰ سے ڈرو اور مجاز کو حقیقت پر حمل نہ کرو۔شہادت القرآن صفحہ ۷۹،۷۸ پھر ان (حضرت مسیح علیہ السلام ) کا جانور بناتا ہے سو اس میں بھی ہم اس بات کے تو قابل ہیں کہ روحانی طور سے معجزہ کے طور پر درخت بھی ناچنے لگ جاوے تو ممکن ہے مگر یہ کہ انہوں نے چڑیاں بنا دیں اور انڈے بچے دیدئے اس کے ہم قائل نہیں ہیں اور نہ قرآن شریف سے ایسا ثابت ہے۔ہم کیا کریں ہم اس طور پر ان باتوں کو مان ہی نہیں سکتے جس طرح پر ہمارے مختلف کہتے ہیں کیونکہ قرآن شریف صریح اس کے خلاف ہے۔اور وہ ہماری تائید میں کھڑا ہے الحکم جلد نمبر ۱۶ مورخه ۳۰ اپریل ۱۹۰۳ صفحه ۸ چڑیاں کیا تے ہیں ہم تو یہ بھی مانتے ہیں کہ ایک درخت بھی ٹاپنے لگے مگر پھر بھی وہ خدا کی چڑیوں کی طرح ہر گز نہیں ہو سکتی کہ جس سے تشابہ فی الخلق لازم آجاوے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱۶ خلق طيور۔پر ہمارا یہ ایمان نہیں ہے کہ اس سے ایسے پرندے مراد ہیں جن کا ذبح کر کے گوشت بھی کھایا جا سکے بلکہ مراد یہ ہے کہ خلق طیور اس قسم کا تھا کہ حد اعجاز تک پہنچا ہوا تھا۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۷ مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۳ صفحه ۳۷۴ حضرت عیسی کا خلق طیور کا مسئلہ بعینہ موسیٰ علیہ السلام کے سوئے والی بات ہے دشمنوں کے مقابلہ کے وقت وہ اگر سانپ بن گیا تھا تو دوسرے وقت میں وہی سوٹے کا سوٹا تھا۔نہ یہ کہ وہ کہیں سانپوں کے گروہ میں چلا گیا تھا۔پس اسی طرح حضرت عیسی ۵۱۲ " ١٣٦٣