مسیحی انفاس — Page 496
۴۹۶ ر فطرت پادریوں نے اپنی تالیفات میں اس طرح ہمارے سید و مولیٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر کھینچ کر دکھلائی ہے کہ گویاوہ ایک شخص ہے جس کی خونی صورت ہے اور غصہ سے بھرا ہوا کھڑا ہے اور ایک تلوار ہاتھ میں ہے اور بعض غریب اور سے بھرا آنحضرت پر پادریوں عیسائیوں وغیرہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے۔لیکن اگر ان لوگوں کو کچھ انصاف اور کا بے بنیاد الزام ایمان میں سے حصہ ہوتا تو اس تصویر سے پہلے موسیٰ کی تصویر کھینچ کر دکھلاتے اور اس طرح کھینچتے کہ گویا ایک نہایت سخت دل اور بے رحم انسان ہاتھ میں تلوار لے کر شیر خوار بچوں کو ان کی ملوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے اور ایسا ہی یشوع بن نون کی تصویر پیش کرتے اور اس تصویر میں دکھلاتے۔کہ گویا اس نے لاکھوں بے گناہ بچوں کو ان کی ملوں کے سمیت ٹکڑے ٹکڑے کر کے میدان میں پھینک دیا۔اور چونکہ ان کے عقیدہ کے موافق یسوع خدا ہے۔اور یہ ساری بے رحمی کی کاروائیاں اس کے حکم سے ہوئی ہیں۔اور وہ مجسم خدا ہے جیسا کہ بیان ہو چکا۔تو اس صورت میں نہایت ضروری تھا کہ سب سے پہلے اس کی تصویر کھینچ کر اس کے ہاتھ میں کم سے کم تین تلواریں دی ن جاتیں۔پہلی وہ تلوار جو اس نے موسی کو دی اور بے گناہ شیر خوار بچوں کو قتل کروایا۔دوسری وہ تلوار جو یشوع بن نون کو دی۔تیسری وہ تلوار جو داود کو دی۔افسوس ! کہ اس حق پوش قوم نے بڑے بڑے ظلموں پر قم باندھ رکھی ہے۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۳۷،۳۶ دوسری نصیحت اگر پادری صاحبان سنیں تو یہ ہے کہ وہ ایسے اعتراض سے پر ہیز آنحضرت کی جنگیں کریں جو خود ان کی کتب مقدسہ میں پایا جاتا ہے۔مثلاً ایک بڑا اعتراض جس ور اسرائیل انیمیا کی سے بڑھ کر شاید ان کی نظر میں اور کوئی اعتراض پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں ہے جنگوں میں سیرت وہ لڑائیاں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو باذن اللہ ان کفار سے کرنی پڑیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں تیرہ برس تک انواع اقسام کے ظلم کئے اور ہر یک طریق سے ستایا اور دکھ دیا اور پھر قتل کا ارادہ کیا۔جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معہ اپنے اصحاب کے مکہ چھوڑنا پڑا اور پھر بھی باز نہ آئے اور تعاقب کیا اور ہریک بے ادبی اور تکذیب کا حصہ لیا اور جو مکہ میں ضعفاء مسلمانوں میں سے رہ گئے تھے ان کو غایت درجہ دکھ دینا شروع کیا۔لہذاوہ لوگ خدا تعالیٰ کی نظر میں اپنے ظالمانہ