مسیحی انفاس — Page 495
۴۹۵ لٹاتے تھے اس نے تمھیں ورم لے کر پکڑوا دیا۔اب ایسی حالت میں کب کوئی کہہ سکتا ہے کہ مسیح نے واقعی ماموریت کا حق ادا کیا۔اور اس کے مقابل ہمارے نبی کریم کا کیا پکا کام ہے۔اس وقت سے جب سے کہا کہ میں ایک کام کرنے کے لئے آیا ہوں۔جب تک یہ سن نہ لیا ك الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ آپ دنیا سے نہ اٹھے۔جیسے دعوی کیا تھا کہ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا اس دعوے کے مناسب حال ضروری تھا کہ کل دنیا کے مگر و مکائد متفق طور پر آپ کی مخالفت میں کئے جاتے۔آپ نے کس حوصلہ اور دلیری کے ساتھ مخالفوں کو مخاطب کر کے کہا کہ فكيدوني جميعا یعنی کوئی دقیقہ مکر کا باقی نہ رکھو۔سارے فریب مکر استعمال کرو۔قتل کے منصوبے کرو۔اخراج اور قید کی تدبیریں کرو مگر یاد رکھو ويُولُونَ الدبر آخر فتح میری ہے ود والحمد سيهزم الجمع۔تمہارے سارے منصوبے خاک میں مل جائیں گے۔تمہاری جماعتیں منتشر اور پراگندہ ہو جاویں گی اور پیٹھ دے نکلیں گی۔جیسے وہ عظیم الشان دعوی إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعاً کسی نے نہیں کیا اور جیسے نگیدونی جمیعا کہنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی۔یہ بھی کسی کے منہ سے نہ سهرة الجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ نکلا۔سيهزم یہ الفاظ اسی منہ سے نکلے جو خدا تعالیٰ کے سائے کے نیچے الوہیت کی چادر میں لپٹا ہوا پڑا تھا غرض ان وجوہات پر ایک اجنبی آدمی بھی نظر ڈالے تو اس کو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے صاف اور واضح طور پر کتاب اللہ کومستحکم فرمایا ہے۔اگر کوئی قانون قدرت پر نظر کرتا ہے تو قول اور فعل الہی کو باہم مطابق پاتا ہے۔پھر اگر خوارق پر نظر کرتا ہے۔تو اس قدر کثرت سے ہیں کہ حد شمار سے باہر ہیں۔یہاں تک کہ آپ کا قول فعل اور حرکات و سکنات سب خوارق ہیں۔قوت قدسیہ کو دیکھتا ہے۔تو صحابہ کرام کی پاک تبدیلی حیرت میں ڈالتی ہے پھر کامیابی کو دیکھتا ہے تو دنیا بھر کے ماموروں اور مرسلوں سے بڑھ کر تھے لملفوظات۔جلد ۲ صفحه ۶۱ تا ۶۳ تصویرنی