مسیحی انفاس — Page 497
۴۹۷ کاموں کی وجہ سے اس لائق ٹھہر گئے کہ ان پر موافق سنت قدیمہ الہیہ کے کوئی عذاب نازل ہو اور اس عذاب کی وہ قومیں بھی سزاوار تھیں جنہوں نے مکہ والوں کو مدد دی اور نیز وہ قومیں بھی جنہوں نے اپنے طور سے ایذا اور تکذیب کو انتہا تک پہنچایا۔اور اپنی طاقتوں سے اسلام کی اشاعت سے مانع آئے۔سو جنہوں نے اسلام پر تلوار میں اٹھائیں وہ اپنی شوخیوں کی وجہ سے تلواروں سے ہی ہلاک کئے گئے۔اب اس صورت کی لڑائیوں پر اعتراض کرنا اور حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی ان لڑائیوں کو بھلا دینا جن میں لاکھوں شیر خوار بچے قتل کئے گئے۔کیا یہ دیانت کا طریق ہے یا نا حق کی شرارت اور خیانت اور فساد انگیزی ہے۔اس کے جواب میں حضرات عیسائی یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں میں بہت ہی نرمی پائی جاتی ہے کہ اسلام لانے پر چھوڑا جاتا تھا اور شیر خوار بچوں کو قتل نہیں کیا۔اور نہ عورتوں کو اور نہ بڑھوں کو اور نہ فقیروں اور مسافروں کو مارا۔اور نہ عیسائیوں اور یہودیوں کے گر جاؤں کو مسماد کیا۔لیکن اسرائلی نبیوں نے ان سب باتوں کو کیا۔یہاں تک کہ تین لاکھ سے بھی کچھ زیادہ شیر خوار بچے قتل کئے گئے۔گویا حضرات پادریوں کی نظر میں اس نرمی کی وجہ - اسلام کی لڑائیاں قابل اعتراض ٹھہریں کہ ان میں وہ سختی نہیں جو حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی لڑائیوں میں تھی۔اگر اس درجہ کی سختی پر یہ لڑائیاں بھی ہوئیں تو قبول کر لیتے کہ در حقیقت یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔اب ہر یک عقلمند کے سوچنے کے لائق ہے کہ کیا یہ جواب ایمانداری کا جواب ہے۔حلانکہ آپ ہی کہتے ہیں کہ خدار تم سے اور اس کی سزار جسم سے خالی نہیں۔پھر جب موسیٰ کی لڑائیاں باوجود اس تختی کے قبول کی گئیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ٹھہریں تو کیوں اور کیا وجہ کہ یہ لڑائیاں جو الہی رحم کی خوشبو ساتھ رکھتی ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوئیں۔اور ایسے لوگ کہ ان باتوں کو بھی خدا تعالیٰ کے احکام سمجھتے ہیں کہ شیر خوار بچے ان کی ماؤں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں اور ماؤں کو ان کے بچوں کے سامنے بے رحمی سے مارا جاوے۔وہ کیوں ان لڑائیوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھیں جن میں یہ شرط ہے کہ پہلے مظلوم ہو کر پھر ظالم کا مقابلہ کرو۔آریہ دھرم - روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۸۱ تا ۸۳ حاشیه