مسیحی انفاس — Page 488
قسم کی موت تا اور ان سے قریب ہو جاتا ہے۔وہ تو ایک عاجز انسان کو خدا قرار دے کر اور بے وجہ اس پر دوسروں کے گناہوں کا بوجھ لاد کر خوش ہورہے ہیں۔جانا چاہئے کہ موت چار عیسائی مذہب میں چار قسم کی ہوتی ہے۔غفلت کی موت، گناہ کی موت، شرک کی موت، کفر کی موت۔سوریہ چاروں قیموں کی موت عیسائی مذہب میں موجود ہے۔غفلت کی موت اس لئے کہ ان کی تمام قوتیں دنیا کی آرائشوں اور جمعیتوں کے لئے خرچ ہو رہی ہیں اور خدا تعالیٰ میں اور ان میں جو حجاب ہیں ان کے دور کرنے کے لئے ایک ذرہ بھی انہیں فکر نہیں۔اور گناہ کی موت اگر دیکھنی ہو تو یورپ کی سیر کرو اور دیکھو کہ ان لوگوں میں عفت اور پرہیز گاری اور پاک دامنی کس قدر باقی رہ گئی ہے۔اور شرک کی موت خود دیکھتے ہو کہ انسان کو خدا بنا دیا اور خدا تعالیٰ کو بھلا دیا۔اور کفر کی موت یہ کہ بچے رسول سے منکر ہو گئے۔اب اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کی نسبت یہ گمان کرنا کہ انہوں نے روحانی مردوں کے زندہ کرنے میں قیامت کا نمونہ دکھلایا۔سراسر خیال محال اور دعوی بے دلیل ہے بلکہ یہ قیامت کا نمونہ روحانی حیات کے بخشنے میں اس ذات کامل الصفات نے دکھایا جس کا نام مردوں کو زندگی نامی محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔سارا قرآن اول سے آخر تک یہ شہادت دے رہا ہے کہ آنحضرت نے بخشی یہ رسول اس وقت بھیجا گیا تھا کہ جب تمام قوتیں دنیا کی روح میں مرچکی تھیں اور فساد روحانی نے بر و بحر کو ہلاک کر دیا تھا۔تب اس رسول نے آکر نئے سرے سے دنیا کو زندہ کیا اور زمین پر توحید کا دریا جاری کر دیا۔اگر کوئی منصف فکر کرے کہ جزیرہ عرب کے لوگ اول کیا تھے اور پھر اس رسول کی پیروی کے بعد کیا ہو گئے۔اور کیسی ان کی وحشیانہ حالت اعلیٰ درجہ کی انسانیت تک پہنچ گئی اور کس صدق و صفا سے انہوں نے اپنے ایمان کو اپنے خونوں کے بہانے سے اور اپنی جانوں کے فدا کرنے اور اپنے عزیزوں کو چھوڑنے اور اپنے مالوں اور عزتوں اور آراموں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں لگانے سے ثابت کر دکھلایا تو بلاشبہ ان کی ثابت قدمی اور ان کا صدق اپنے پیارے رسول کی راہ میں ان کی جاں فشانی ایک اعلیٰ درجہ کی کرامت کے رنگ میں اس کو نظر آئیگی۔وہ پاک نظر ان کے وجودوں پر کچھ ایسا کام کر گئی کہ وہ اپنے آپ سے کھوئے گئے اور انہوں نے فنافی اللہ ہو کر صدق اور راست بازی کے وہ کام دکھلائے جس کی نظیر کسی قوم میں ملنا مشکل ہے اور جو کچھ انہوں نے عقائد کے طور پر حاصل کیا تھا وہ یہ تعلیم نہ تھی کہ کسی عاجز انسان کو خداماتا جائے یا خدا تعالیٰ کو بچوں کا محتاج ٹھہرایا جائے بلکہ انہوں نے حقیقی خدائے ذوالجلال جو ہمیشہ سے غیر