مسیحی انفاس — Page 489
۴۸۹ متبدل اور حی و قیوم اور ابن اور اب ہونے کی حاجات سے منزہ اور موت اور پیدائش سے پاک ہے بذریعہ اپنے رسول کریم کے شناخت کر لیا تھا اور وہ لوگ سچ سچ موت کے گڑھے سے نکل کر پاک حیات کے بلند مینار پر کھڑے ہو گئے تھے اور ہر ایک نے ایک تازہ زندگی پالی تھی اور اپنے ایمانوں میں ستاروں کی طرح چمک اٹھے تھے۔سو در حقیقت ایک ہی کامل انسان دنیا میں آیا جس نے ایسے اتم اور اکمل طور پر یہ روحانی قیامت دکھلائی اور ایک زمانہ دراز کے مردوں اور ہزاروں برسوں کے عظیم ر میم کو زندہ کر دکھلایا۔اس کے آنے سے قبریں کھل گئیں اور بوسیدہ ہڈیوں میں جان پڑ گئی اور اس نے ثابت کر دکھلایا کہ وہی حاشر اور وہی روحانی قیامت ہے جس کے قدموں پر ایک عالم قبروں میں سے نکل آیا۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۹۹ تا ۲۰۷ نیز دیکھیں۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحہ ۱۷۱، ۱۷۲ MO اب پھر ہم پر چہ نور افشاں کے بے بنیاد دعوی کے ابطال کی غرض سے لکھتے ہیں کہ اگر اس محرف و مبدل انجیل کی نسبت جو عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے خاموش رہ کر اس فقرہ کو مردوں کو زندگی دینے صحیح بھی سمجھا جائے کہ حضرت مسیح نے ضرور یہ دعوی کیا ہے کہ قیامت اور زندگی میں ہوں کی تحصیل تو اس سے کچھ حاصل نہیں کیونکہ ایساد علوی جو اپنے ساتھ اپنا ثبوت نہیں رکھتا کسی کے لئے موجب فضیلت نہیں ہو سکتا۔اگر ایک انسان ایک امر کی نسبت دعوی نہ کرے مگر وہ امر کر دکھائے تو اس دوسرے انسان سے بدرجہا بہتر ہے کہ دعوی تو کرے مگر اثبات دعوی سے عاجز رہے انجیل خود شہادت دے رہی ہے کہ حضرت مسیح کار علوی اوروں کی نسبت تو کیا خود حواریوں کی حالت پر نظر ڈالنے سے ایک معترض کی نظر میں سخت قابل اعتراض ٹھہرتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح اپنے حواریوں کو بھی نفسانی قبروں میں ہی چھوڑ گئے اور جب ہم حضرت مسیح کے اس دعولی تو حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی سے مقابلہ کرتے ہیں تو اس دعوی اور اس دعوی میں ظلمت اور نور کا فرق دکھائی دیتا ہے۔حضرت مسیح کا دعوی عدم ثبوت کے ایک تنگ و تاریک گڑھے میں گرا ہوا ہے اور کوئی نور اپنے ساتھ نہیں رکھتا۔لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوی آفتاب کی طرح چمک رہا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جاودانی زندگی پر