مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 632

مسیحی انفاس — Page 449

۴۴۹۔اس لئے احسان کی تعریف میں یہ بات داخل ہے کہ ایسے طور سے عبادت کرے کہ گویا خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے در حقیقت تین قسم پر منقسم ہیں۔اول وہ لوگ جو باعث محبوبیت اور رویت اسباب کے احسانِ الہی کا اچھی طرح ملاحظہ نہیں کرتے اور نہ جوش ان میں پیدا ہوتا ہے جو احسان کی عظمتوں پر نظر ڈال کر پیدا ہوا کرتا ہے۔اور نہ وہ محبت ان میں حرکت کرتی ہے جو محسن کی عنایات عظیمہ کا تصور کر کے جنبش میں آیا کرتی ہے۔بلکہ صرف ایک اجمالی نظر سے خدا تعالیٰ کے قوق خالقیت وغیرہ کو تسلیم کر لیتے ہیں اور احسان الہی کی ان تفصیلات کو جن پر ایک باریک نظر ڈالنا اس حقیقی محسن کو نظر کے سامنے لے آتا ہے ہر گز مشاہدہ نہیں کرتے۔کیونکہ اسباب پرستی کا گر دو غبار مستبد حقیقی کا پورا چہرہ دیکھنے سے روک دیتا ہے۔اس لئے ان کو وہ صاف نظر میسر نہیں آتی۔جس سے کامل طور پر معطی حقیقی کا جمال مشاہدہ کر سکتے۔سوان کی ناقص معرفت رعایت اسباب کی کدورت سے ملی ہوئی ہوتی ہے اور بوجہ اس کے جو وہ خدا کے احسانات کو اچھی طرح دیکھ نہیں سکتے۔خود بھی اس کی معدوم ہو کر ذاتی محبت اس کی اندر پیدا ہو جاتی ہے۔اور یہ وہ مرتبہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے لفظ ایتاء ذی القربیٰ سے تعبیر کیا ہے۔اور اسی کی طرف خدا تعالیٰ نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے۔فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ ءَابَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا غرض آیت إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَنِ وَإِيتَاي ذِي الْقُرْنَ کی یہ تفسیر ہے اور اس میں خدا تعالیٰ نے تینوں مرتبے انسانی معرفت کے بیان کر دیئے اور تیسرے مرتبہ کو محبت ذاتی کا مرتبہ قرار دیا اور یہ وہ مرتبہ ہے جس میں تمام اغراض نفسانی جل جاتے ہیں اور دل ایسا محبت سے بھر جاتا ہے جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔اس مرتبہ کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے۔وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشَرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفُ بِالْعِبَادِ یعنی بعض مومن لوگوں میں سے وہ بھی ہیں کہ اپنی جانیں رضاء الہی کے عوض میں بیچ دیتے ہیں اور خدا ایسوں پر مہربان ہے۔اور پھر فرمایا