مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 450 of 632

مسیحی انفاس — Page 450

بلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنُ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفُ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ یعنی وہ لوگ نجات یافتہ ہیں جو خدا کو اپنا وجود حوالہ کر دیں اور اس کی نعمتوں کے تصور سے اس طور سے اس کی عبادت کریں کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہیں سو ایسے لوگ خدا کے پاس سے اجر پاتے ہیں۔اور نہ ان کو کچھ خوف ہے اور نہ وے کچھ غم کرتے ہیں۔یعنی ان کا مد عا خدا اور خدائی محبت ہو جاتی ہے اور خدا کے پاس کی نعمتیں ان کا اجر ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ فرمایا وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينَا وبتيما وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاء وَلَا شُكُورًا یعنی مومن وہ ہیں جو خدا کی محبت سے مسکینوں اور قیموں اور قیدیوں کو روٹی کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس روٹی کھلانے سے تم سے کوئی بدلہ اور شکر گزاری نہیں چاہتے۔اور نہ ہماری کچھ غرض ہے۔ان تمام خدمات سے صرف خدا کا چہرہ ہمارامطلب ہے۔اب سوچنا چاہئے کہ ان تمام آیات سے کس قدر صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف نے اعلیٰ طبقہ عبادت الہی اور اعمال صالحہ کا یہی رکھتا ہے کہ محبت الہی اور رضا الہی کی طلب سچے دل سے ظہور میں آوے۔مگر اس جگہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمدہ تعلیم جو نہایت صفائی سے بیان کی گئی ہے انجیل میں بھی موجود ہے۔ہم ہر یک کو یقین دلاتے ہیں کہ اس صفائی اور تفصیل سے انجیل نے ہر گز بیان نہیں کیا۔خدا تعالیٰ نے تو اس دین کا نام اسلام اس غرض سے رکھا ہے کہ تا انسان خدا تعالیٰ کی عبادت نفسانی اغراض سے نہیں بلکہ طبعی جوش سے کرے۔کیونکہ اسلام تمام اغراض کو چھوڑ دینے کے بعد رضا بقضا کا نام ہے۔دنیا میں حجر اسلام ایسا کوئی مذہب نہیں جس کے یہ مقاصد ہوں۔بیشک خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت کے جتلانے کے لئے مومنوں کو انواع اقسام کی نعمتوں کے وعدے دیئے ہیں۔مگر مومنوں کو جو اعلیٰ مقام کے خواہشمند ہیں یہی تعلیم دی ہے کہ وہ محبت ذاتی سے خدا تعالیٰ کی عبادت کریں۔اگر کہو کہ انجیل نے یہ سکھلا کر کہ خدا کو باپ کہو محبت ذاتی کی طرف اشارہ کیا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا خیال سراسر غلط ہے کیونکہ انجیلوں پر غور کرنے سے معلوم ۴۵۰