مسیحی انفاس — Page 448
۴۴۸ پھر آپ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ مسلمان لوگ خدا کے ساتھ بھی بلا غرض محبت نہیں کرتے۔ان کو یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ خدا اپنی خوبیوں کی وجہ سے محبت کے لائق ہے۔اما الجواب۔پس واضح ہو کہ یہ اعتراض در حقیقت انجیل پر وارد ہوتا ہے نہ قرآن خدا تعالیٰ سے محبت پر۔کیونکہ انجیل میں یہ تعلیم ہر گز موجود نہیں کہ خدا سے ذاتی محبت رکھنی چاہئے اور کے بارہ میں تعلیم محبت ذاتی سے اس کی عبادت کرنی چاہئے۔مگر قرآن تو اس تعلیم سے بھرا پڑا ہے۔قرآن کے لحاظ سے انجیل نے صاف فرما دیا ہے۔موازنه ایک اعتراض فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ ءَابَاءَ كُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا جواب ) وَالَّذِينَ ءَامَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ یعنی خدا کو ایسا یاد کرو جیسا کہ اپنے باپوں کو بلکہ اس سے بہت زیادہ۔اور مومنوں کی یہی شان ہے کہ وہ سب سے بڑھ کر خدا سے محبت رکھتے ہیں یعنی ایسی محبت نہ وہ اپنے باپ سے کریں اور نہ اپنی ماں سے اور نہ اپنے دوسرے پیاروں سے۔اور نہ اپنی جان سے۔اور پھر فرمایا۔حبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَنَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ یعنی خدا نے تمہارا محبوب ایمان کو بنا دیا۔اور اس کو تمہارے دلوں میں آراستہ کر دیا اور پھر فرمایا۔إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَنِ وَإِيتَاي ذِي الْقُرْنَ یہ آیت حق اللہ اور حق العباد پر مشتمل ہے اور اس میں کمال بلاغت یہ ہے کہ دونوں پہلو پر اللہ تعالیٰ نے اس کو قائم کیا ہے۔حق العباد کا پہلو تو ہم ذکر کر چکے ہیں۔اور حق اللہ کے پہلو کی رو سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ انصاف کی پابندی سے خدا تعالیٰ کی اطاعت کر۔کیونکہ جس نے تجھے پیدا کیا اور تیری پرورش کی اور ہر وقت کر رہا ہے۔اس کا حق ہے کہ تو بھی اس کی اطاعت کرے۔اور اگر اس سے زیادہ تجھے بصیرت ہو تو نہ صرف رعایت حق سے بلکہ احسان کی پابندی سے اس کی اطاعت کر۔کیونکہ وہ محسن ہے اور اس کے احسان اس قدر ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتے۔اور ظاہر ہے کہ عدل کے درجہ سے بڑھ کر وہ درجہ ہے۔جس میں اطاعت کے وقت احسان بھی ملحوظ رہے اور چونکہ ہر وقت مطالعہ اور ملاحظہ احسان کا محسن کی شکل اور شمائل کو ہمیشہ نظر کے سامنے لے آتا ہے