مسیحی انفاس — Page 446
کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اور وہ نعمت اپنے لئے پسند کرتا ہے۔لیکن در حقیقت غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ حسد کا اصل مفہوم بر انہیں۔کیونکہ اصل مفہوم اس قوت کا جو بد استعمالی سے بری شکل پیدا کر لیتا ہے صرف اس قدر ہے کہ سب سے بڑھ کر آگے قدم رکھے اور اچھی باتوں میں سب سے سبقت لے جائے اور پیش قدمی کا ایسا جوش ہو جو کسی کو اپنے برابر دیکھ نہ سکے۔پس چونکہ حاسد میں سبقت کرنے کا مادہ جوش مارتا ہے لہذا ایک شخص کو ایک نعمت میں دیکھ کر یہ چاہتا ہے کہ یہ نعمت میرے لئے ہو اور اس سے دور ہو جائے تا اس طرح پر اس کو سبقت حاصل ہو۔سو یہ اس پاک قوت کی بد استعمالی ہے۔ورنہ مجرد سبقت کا جوش اپنے اندر برا نہیں ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ فاستبقوا الخیرات۔یعنی خیر اور بھلائی کی ہر ایک قسم میں سبقت کرو اور زور مار کر سب سے آگے چلو۔سوجو شخص نیک و سائل سے خیر میں سبقت کرنا چاہتا ہے وہ در حقیقت حسد کے مفہوم کو پاک صورت میں اپنے اندر رکھتا ہے۔اسی طرح تمام اخلاق رذیلہ اخلاق فاضلہ کی مسخ شدہ صورتیں ہیں خدائے تعالیٰ نے انسان میں تمام نیک قوتیں پیدا کیں۔پھر بد استعمالی سے وہ بد نما ہو گئیں۔اسی طرح انتقام کی قوت بھی در حقیقت بُری نہیں ہے۔فقط اس کی بد استعمالی بُری ہے۔اور انجیل نے جو انتقامی قوت کو بر اقرار دیا اگر وہ عذر نہیں یاد نہ ہو تا جو ابھی ہم لکھ چکے ہیں تو ہم ایسی تعلیم کو شیطانی تعلیم قرار دیتے۔مگر اب کیونکر قرار دیں کیونکہ خود حضرت مسیح اپنی تعلیم کے علمی اور ناقص ہونے کا اقرار کر کے اپنے حواریوں کو کہتے ہیں کہ۔بہت سی باتیں ہیں کہ ابھی تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے لیکن جب فاز خلط آئے گا تو وہ تمام باتیں تمہیں سمجھادے گا ؟ یہ اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ میری تعلیم علمی اور ناقص ہے اور آنے والا نبی کامل تعلیم لائے گا۔عیسائیوں کا یہ عذر بالکل جاہلانہ عذر ہے کہ یہ پیش گوئی اس روز پوری ہوئی جب حواریوں نے طرح طرح کی زبانیں بول تھیں کیونکہ طرح طرح کی زبانیں بولنا کوئی نئی تعلیم نہیں ہو سکتی۔وہ زبانیں تو عیسائیوں نے محفوظ بھی نہیں رکھیں بولنے کے ساتھ ہی معدوم ہو گئیں۔ہاں اگر عیسائیوں کے ہاتھ میں کوئی ایسی نئی تعلیم ہے جو حضرت مسیح کے اقوال میں نہیں پائی جاتی تو اسے پیش کرنا چاہئے تا دیکھا جائے کہ وہ اس عفو اور در گزر کی تعلیم کو کیونکر بدلاتی ہے۔