مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 445 of 632

مسیحی انفاس — Page 445

۴۴۵ كي عفولور در گذر کی تعلیم ہوئی۔مگر یہ تعلیم نفس الامر میں عمدہ نہ تھی بلکہ نظام الہی کی ی تھی۔لہذا حقیقی تعلیم کا تلاش کرنے والا انجیل کی تعلیم پر بہت ہی شک کرے گا اور ممکن ہے ایسے معلم کو ایک نادان اور سادہ لوح قرار دے۔چنانچہ یورپ کے محققوں نے ایسا ہی کیا۔مگر یادر ہے کہ اگر چہ انجیل کی تعلیم بالکل علمی اور سراسر پیچ ہے لیکن حضرت مسیح اس وجہ سے معذور ہیں کہ انجیل کی تعلیم ایک قانون دائمی اور مستمر کی طرح نہیں تھی بلکہ اس محدود ایکٹ کی طرح تھی جو مختص المقام اور مختف الزمان اور مختص القوم ہوتا ہے۔یورپ کے وہ روشن دماغ محقق جنہوں نے یسوع کو نہایت درجہ کا نادان اور سادہ لوح اور علیم و حکمت سے بے بہرہ قرار دیا ہے۔اگر وہ اس عذر پر اطلاع پاتے تو یقین تھا کہ وہ اپنی تحریروں میں کچھ نرمی کرتے۔لیکن مخلوق پرست لوگوں نے اور بھی اہل تحقیق کو بیزار کیا۔عزیز و یہ زمانہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ اس زمانہ کے محقق اور آزاد طبیعت ایک مردہ خوار کو ایسابرا اور قابل لعن و طعن اور حقیر نہیں مجھے جیسا کہ ایک مردہ پرست مشرک کو۔غرض انجیل کی ناقص اور مکتی اور بیہودہ تعلیم اگر چہ اہل تحقیق کے نزدیک نہایت ہی بد بودار اور قابل نفرت ہے لیکن چونکہ اس وقت کے یہود بھی ایک گری ہوئی حالت میں ا تھے اور خدائے تعالیٰ جانتا تھا کہ اس تعلیم کو جلد تر نیست و نابود کیا جائے گا۔لہذا ایک مختصیر زمانہ کے لئے جو چھ سو برس سے زیادہ نہ تھا یہ تعلیم یہودیوں کو دی گئی۔مگر چونکہ فی الواقع حق اور حکمت پر مبنی نہیں تھی اس لئے خدائے تعالی کی کامل کتاب نے جلد نزول فرما کر دنیا کو اس بے ہودہ تعلیم سے نجات بخشی۔یہ بات بدیہی اور صاف ہے کہ انسان اس دنیا میں بہت سے قوئی لے کر آیا ہے اور تمام حیوانات کے متفرق قوئی کا مجموعہ انسان میں پایا جاتا ہے اس لئے وہ دوسروں کا سردار بنایا گیا۔پس انسان کی تکمیل کے لئے وہی تعلیم حقیقی تعلیم ہے جو اس کی تمام قوتوں کی تربیت کرے نہ کہ اور تمام شاخوں کو کاٹ کر صرف ایک ہی شاخ پر زور ڈال دے۔تعلیم سے مطلب تو یہ ہے کہ انسان اپنی تمام قوتوں کو حد اعتدال پر چلا کر حقیقی طور پر انسان بن جائے اور اس کی تمام قوتیں خدائے تعالیٰ کے آستانہ پر کامل عبودیت کے ساتھ سر رکھ دیں اور اپنے محل اور موقعہ پر چلیں۔اور ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ انسان میں کوئی قوت بڑی نہیں۔صرف ان کی بد استعمالی بری ہے۔مثلاً حسد کی قوت کو بہت ہی برا سمجھا جاتا ہے کیونکہ ایک حاسد دوسرے