مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 447 of 632

مسیحی انفاس — Page 447

۴۴۷ اگر عیسائیوں میں انصاف ہوتا تو حضرت مسیح کا اپنی تعلیم کو نا قص قرار دینا اور ایک آنے والے نبی کی امید دلانا ہمارے مولیٰ خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت کے لئے بڑا قرینہ تھا تھا خصوصا اس حالت میں کہ خود انجیل کی ناقص تعلیم ایک کامل کتاب کو چاہتی تھی۔پھر ایک یہ بھی بڑا قرینہ تھا کہ حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ تم میں ان باتوں کی بر داشت نہیں۔اس میں صریح اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تمہاری استعدادیں اور تمہاری فطرتیں اس تعلیم کے مخالف پڑی ہیں پھر جب کہ فطرت میں تبدیلی ممکن نہیں اور نہ حضرت مسیح کے وقت میں وہ فطرتیں مبدل ہو سکیں تو پھر کسی دوسرے وقت میں ان کی تبدیلی کیونکر ممکن ہے۔پس یہ صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ وہ تعلیم تمہیں نہیں دی جائے گی بلکہ تمہاری ذریت اس تعلیم کا زمانہ پائے گی اور ان کو وہ استعداد میں دی جائیں گی جو تمہیں نہیں دی گئیں۔یہ تو ہم نے پادری ٹھاکر داس صاحب کی نسبت وہ باتیں لکھی ہیں جن کا انصاف کی رُو سے لکھنا مناسب تھا لیکن خیر الدین صاحب کی یہ غلطی ہے کہ وہ گمان کرتے ہیں کہ یسوع انجیلی تعلیم کا پابند تھا۔انہیں سمجھنا چاہئے کہ اگر یسوع اس کی تعلیم کا پابند ہوتا تو فقیہوں فریسیوں کو بد زبانی سے پیش نہ آتا۔یسوع کے ہاتھ میں صرف زبان تھی سو خوب چلائی۔کسی کو حرام کار کسی کو سانپ کا بچہ کسی کوست اعتقاد قرار دیا۔اگر کچھ اختیار ہوتا تو خدا جانے کیا کرتا۔ہم اس کے ظلم اور عفو کے بغیر امتحان کے کیونکر قائل ہو جائیں اور کیوں یہ بات بیچ نہیں کہ ستر بی بی از بیچادری " کہاں یسوع کو یہ موقعہ ملا کہ وہ یہود کے سزا دینے پر قادر ہوتا اور پھر در گذر کرتا۔ہاں یہ اخلاق فاضلہ ہمارے سید و مولی افضل الانبیاء خیر الاصفیاء محمد مصطفے خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت ہیں کہ آپ نے جب مکہ فتح والوں پر فتح پائی، جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ستایا تھا اور صدہا نا حق کے خون کئے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ اپنی خونریزیوں کے عوض میں ٹکڑے ٹکڑے کئے جاویں گے ان سب کو بخش دیا اور کہا کہ جاؤ میں نے سب کو آزاد کر دیا۔عیسائیوں کی اگر نیک قسمت ہے تو اب بھی اس آفتاب صداقت کو شناخت کریں اور مردہ پرستی سے باز آئیں۔والسلام على من اتبع الهدي غلام احمد قادیانی مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۲۳۲ تا ۲۴۳) مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان