مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 632

مسیحی انفاس — Page 437

۴۳۷ ۱۳۵ انجیلوں میں حلیموں۔غریبوں۔مسکینوں کی تعریف کی گئی ہے۔اور نیز ان کی تعریف جو ستائے جاتے ہیں اور مقابلہ نہیں کرتے۔مگر قرآن صرف یہی نہیں کہتا کہ تم ہر وقت مسکین بنے رہو اور نشتر کا مقابلہ نہ کرو۔بلکہ کہتا ہے کہ حلم اور مسکینی اور غربت اور ترک مقابلہ اچھا ہے۔مگر اگر بے محل استعمال کیا جائے تو بڑا ہے۔پس تم محل اور موقعہ جلسوں، غریبوں اور کو دیکھ کر ہر ایک نیکی کرو۔کیونکہ وہ نیکی بدی ہے جو محل اور موقعہ کے برخلاف مسکینوں کی تعریف ہے۔جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ مینہہ کس قدر عمدہ اور ضروری چیز ہے۔لیکن اگر وہ بے موقعہ ہو تو وہی تباہی کا موجب ہو جاتا ہے تم دیکھتے ہو کہ ایک ہی سرد غذا یا گرم غذا کی مداومت سے تمہاری صحت قائم نہیں رہ سکتی۔بلکہ صحت تبھی قائم رہے گی جب موقعہ اور محل کے موافق تمہارے کھانے اور پینے کی چیزوں میں تبدیلی ہوتی رہے۔پس درشتی اور نرمی اور عضو اور انتقام اور دعا اور پر دعا اور دوسرے اخلاق میں جو تمہارے لئے مصلحت وقت ہے۔وہ بھی اس تبدیلی کو چاہتی ہے۔اعلیٰ درجہ کے حلیم اور خلیق بنو۔لیکن نہ بے محل اور بے موقعہ۔اور ساتھ اس کے یہ بھی یاد رکھو کہ حقیقی اخلاق فاصلہ جن کے ساتھ نفسانی اغراض کی کوئی زہر پلی آمیزش نہیں۔وہ اوپر سے بذریعہ روح القدس آتے ہیں۔سو تم ان اخلاق فاصلہ کو محض اپنی کوشش سے حاصل نہیں کر سکتے جب تک تم کو اوپر سے وہ اخلاق عنایت نہ کئے جائیں۔اور ہر ایک جو آسمانی فیض سے بذریعہ روح القدس اخلاق کا حصہ نہیں پاتا۔وہ اخلاق کے دعوے میں جھوٹا ہے اور اس کے پانی کے نیچے بہت سا کچڑ ہے اور بہت سا گوہر ہے۔جو نفسانی جوشوں کے وقت ظاہر ہوتا ہے۔سو تم خدا اسے ہر وقت قوت مانگو جو اس کیچڑ اور اس گوبر سے تم نجات پاؤ۔اور روح القدس تم میں کچی طہارت اور لطافت پیدا کرے۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۴، ۴۵ انجیل متی ۵ باب میں ہے کہ " تم سن چکے ہو کہ کہا گیا۔آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا اس تعلیم پر دو عیسائیوں میں ایک صاحب خیر الدین نام عیسائی نے ڈرتے ڈرتے اعتراض کیا ہے کہ ایسے احکام اس طبیعی قانون خود حفاظتی کے بر خلاف ہیں جو جمیع حیوانات بلکہ پرندوں اور کیڑوں میں بھی نظر آرہا ہے۔اور ثابت نہیں ہو سکتا کہ کسی زمانہ میں باستثناء ذات مسیح کے احکام پر کسی محاکمه