مسیحی انفاس — Page 436
۴۳۶ دشمنوں سے پیار نیم دعوت - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۳۶ تا ۴۳۸ نیز دیکھیں۔لیکچر لاہور۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۶۶ تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۶۲، ۱۶۳ چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۵ ملفوظات۔جلد ۲ صفحہ ۴۰ ۴۱ قرآن انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو۔بلکہ وہ کہتا ہے کہ چاہئے کہ نفسانی رنگ میں تیرا کوئی بھی دشمن نہ ہو اور تیری ہمدردی ہر ایک کے لئے عام ہو۔مگر جو تیرے خدا کا دشمن۔تیرے رسول کا دشمن اور کتاب اللہ کا دشمن ہے وہی تیرا دشمن ہو گا۔سو تو ایسوں کو بھی دعوت اور دعا سے محروم نہ رکھ۔اور چاہئے کہ توان کے اعمال سے دشمنی رکھے نہ ان کی ذات سے۔اور کوشش کرے کہ وہ درست ہو جائیں۔اور اس بارے میں فرماتا ہے۔إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَنِ وَإِيتَابِي ذِي الْقُرْنَ یعنی خدا تم سے کیا چاہتا ہے۔بس یہی کہ تم تمام نوع انسان سے عدل کے ساتھ پیش آیا کرو۔پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان سے بھی نیکی کرو جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نہیں کی۔پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ مخلوق خدا سے ایسی ہمدردی کے ساتھ پیش آو کہ گویا تم ان کے حقیقی رشتہ دار ہو۔جیسا کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں۔کیونکہ احسان میں ایک خود نمائی کا مادہ بھی مخفی ہوتا ہے۔اور احسان کرنے والا بھی اپنے احسان کو جتلا بھی دیتا ہے۔لیکن وہ جو ماں کی طرح طبیعی جوش سے نیکی کرتا ہے وہ کبھی خود نمائی نہیں کر سکتا۔پس آخری درجہ نیکیوں کا طبعی جوش ہے جو ماں کی طرح ہو۔اور یہ آیت نہ صرف مخلوق کے متعلق ہے بلکہ خدا کے متعلق بھی ہے۔خدا سے عدل یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو یاد کر کے اس کی فرمانبرداری کرنا۔اور خدا سے احسان یہ ہے کہ اس کی ذات پر ایسا یقین کر لینا کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے۔اور خدا سے اینا نو ذی القربی یہ ہے کہ اس کی عبادت نہ تو بہشت کے طمع سے ہو اور نہ دوزخ کے خوف سے۔بلکہ اگر فرض کیا جائے کہ نه بہشت ہے اور نہ دوزخ ہے۔تب بھی جوش محبت اور اطاعت میں فرق نہ آوے۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۰ ،۳۱